ایک روایت میں اتنا زائدہے کہ ’’وہ اس امت کے برے لوگ ہیں ۔‘‘ (۱)
پانچ اچھے اخلاق:
منقول ہے کہ ’’کِتَابُ اللّٰہ کی پانچ آیات میں سے جوپانچ اخلاق سمجھے گئے ہیں وہی علمائے آخرت کی علامات ہیں : (۱)خوف (۲)خشوع (۳)عاجزی (۴)حسنِ اخلاق اور (۵)آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا یعنی زہداختیارکرنا۔
خشیت: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان سے ثابت ہے:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (پ۲۲، فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔
خشوع: اس آیت ِ مبارَکہ سے ثابت ہے:
خٰشِعِیۡنَ لِلہِ ۙ لَا یَشْتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۹۹)
ترجمۂ کنزالایمان: ان کے دل اللّٰہ کے حضور جھکے ہوئے، اللّٰہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے۔
تواضع: کا ذکراس آیت ِ مقدسہ میں ہے:
وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾ (پ:۱۴، الحجر:۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو۔
حسن اخلاق: کا ثبوت اس فرمانِ باری تعالیٰ سے ہے:
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنۡتَ لَہُمْ ۚ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیسی کچھ اللّٰہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے۔
زہد:کا بیان اس آیت ِ طیبہ میں ہے:
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ وَیۡلَکُمْ ثَوَابُ اللہِ خَیۡرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۚ (پ۲۰،القصص:۸۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللّٰہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۰۔۲۵۱۔