مزید فرماتے ہیں کہ ’’جب علم کی بات سنو تو خاموش رہو اور اسے بیہودہ باتوں سے نہ ملاؤ ورنہ دل اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔‘‘ (۱)
بعض اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے فرمایا: ’’عالم جب ایک مرتبہ ہنستا ہے تو علم کا ایک لقمہ نکال پھینکتا ہے۔‘‘(۲)
اُستاذ و شاگرد کی تین عمدہ خصلتیں :
منقول ہے کہ ’’اگر اُستاذ میں تین باتیں ہوں تو اس کے سبب شاگرد پر نعمت مکمل ہوجاتی ہے: (۱)…صبر (۲)…عاجزی اور (۳)…اچھے اخلاق اور اگر شاگرد میں تین باتیں ہوں تو اس کے سبب اُستاذ پر نعمت کامل ہوجاتی ہے: (۱)…عقل (۲)…ادب اور (۳)…اچھی سمجھ۔‘‘ (۳)
المختصر علمائے آخرت قرآنِ حکیم میں بیان کردہ اخلاق سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتے اس لئے کہ وہ عمل کے لئے قرآنِ مجید سیکھتے ہیں نہ کہ حکومت کے حصول کے لئے۔
قرآن سے پہلے ایمان:
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ہم نے ایک زمانہ گزارا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو ایمان قرآن سے پہلے دیا گیا جب کوئی سورت نازل ہوتی تو وہ اس کے حلال وحرام، اَوامر ونواہی کو سیکھ لیتا اور جہاں توقف کرنا مناسب ہوتا وہاں توقُّف کرتا اور میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن میں سے کسی کو ایمان سے پہلے قرآن دیا گیا وہ سورۂ فاتحہ سے لے کر آخر تک سارا قرآنِ پاک پڑھ لیتا ہے لیکن اس کے اَوامر ونواہی کو نہیں جانتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ کہاں توقف کرنا مناسب ہے۔ وہ اسے ردی کھجوروں کی طرح بکھیرتا چلا جاتا ہے۔‘‘ (۴)
ایک روایت میں اس طرح کا مفہوم ہے کہ ’’ہمیں (یعنی صحابۂ کرام کو) قرآن سے پہلے ایمان عطا ہوا اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جنہیں ایمان سے پہلے قرآن ملے گا۔ وہ اس کے حروف کو تودرست کریں گے لیکن اس کی حدود اور اس کے حقوق ضائع کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے قرآنِ پاک پڑھا ہے ہم سے بڑا قاری کون ہے؟ ہم نے سیکھا ہے، ہم سے بڑا عالم کون ہے؟ پس ان کا حصہ یہی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، ص۲۵۰۔
2…المرجع السابق، ص۲۵۱۔
3…المرجع السابق، ص۲۵۱۔
4…السنن الکبری للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب البیان انہ انما قیل…الخ، الحدیث:۵۲۹۰، ج۳، ص۱۷۱۔