Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
261 - 1087
سے بھر دیا لیکن اس سے میری رضا کا ارادہ نہیں کیا، میں تیرے کثیر کلام میں سے کچھ بھی قبول نہیں کروں گا۔‘‘ پھر اس شخص نے شرمندہ ہوکر یہ کام چھوڑ دیا اور عام لوگوں کے ساتھ مل جل کر بازاروں میں چلنا پھرنا شروع کردیا، بنی اسرائیل کے ساتھ کھانا پینا اختیار کرلیا اور عاجزی وانکساری کا پیکربن گیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس دور کے نبیعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ ’’اس سے کہہ دو اب تجھے میری رضا کی توفیق حاصل ہوئی ہے۔‘‘  (۱)
سپاہی سے زیادہ برے:
	حضرت سیِّدُنا امام اوزاعیرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا بلال بن سعدعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں وہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’تم میں سے کوئی سپاہی کو دیکھتا ہے تو اس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہے اور علمائے دنیا کو دیکھتا ہے جو مخلوق اور حکومت کے شوق میں بناوٹ اختیار کئے ہوتے ہیں تو ان کو برا نہیں سمجھتا حالانکہ وہ اس سپاہی سے زیادہ برے سمجھے جانے کے حقدار ہیں ۔‘‘  (۲)
سب سے برے لوگ:
	مروی ہے کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! افضل عمل کون سا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’محرمات سے بچنا اور ہر وقت ذِکْرُاللّٰہ سے اپنی زبان کو تر رکھنا۔‘‘ پھر عرض کی گئی: ’’اچھا دوست کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ایسا دوست کہ اگر تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے تو وہ تیری مدد کرے اور اگر تو اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر کو بھول جائے تو وہ تجھے یاد دلائے۔‘‘ پھر عرض کی گئی: ’’برا دوست کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’برا دوست وہ ہے کہ اگر تو اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو بھول جائے تو وہ تجھے یاد نہ دلائے اور اگر تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے تو وہ تیری مدد نہ کرے۔‘‘ پھر عرض کی گئی: ’’لوگوں میں بڑا عالم کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا۔‘‘ عرض کی گئی: ’’ہمیں ہمارے اچھے لوگوں کے بارے میں خبر دیجئے تاکہ ہم ان کے ساتھ بیٹھا کریں ۔‘‘ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنہیں دیکھنے سے خدا یاد آجائے۔‘‘ عرض کی گئی: ’’لوگوں میں سے برے کون ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ! مغفرت فرما۔‘‘ لوگوں نے پھر عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۶۔
2…المرجع السابق، ص۲۴۵۔