Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
260 - 1087
متقین کاامام:
	منقول ہے کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جس بندے کو علم عطا فرماتا ہے اسے حلم، عاجزی، اچھے اخلاق اور نرمی بھی عطا فرماتا ہے اور یہی علم نافع ہے۔‘‘  ایک روایت میں ہے کہ ’’جس بندے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے علم، زہد، عاجزی اور اچھے اخلاق عطا فرمائے وہ متقین کا امام ہے۔‘‘  (۱)
	حضور اکرم، نورِ مجسمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے بہترین لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو بظاہر رحمت الٰہی کی وسعت کے سبب خوش ہوتے ہیں لیکن باطنی طور پرعذاب الٰہی کے خوف سے گریہ کناں رہتے ہیں ۔ ان کے بدن تو زمین پر ہوتے ہیں لیکن دل آسمان پر، ان کی روحیں دنیا میں مگر عقلیں آخرت میں (نجات کے حصول میں مگن ) ہوتی ہیں ۔ اطمینان اور پرسکون انداز سے چلتے اور وسیلہ کے ذریعے قرب حاصل کرتے ہیں ۔‘‘  (۲)
علم کا وزیر، باپ اور لباس:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حلم علم کا وزیر، نرمی اس کا باپ اور تواضع اس کا لباس ہے۔‘‘  (۳)
	حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث حافیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’جس نے علم کے ذریعے سرداری چاہی وہ بارگاہِ الٰہی میں ایسے حاضر ہوگا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس سے ناراض ہوگا اور وہ زمین وآسمان میں مبغوض ہوگا۔‘‘  (۴)
جس عمل میں رضائے الٰہی مقصود نہ ہو وہ مردود ہے:
	اسرائیلی مرویات میں ہے کہ ایک حکیم نے حکمت پر 360کتابیں لکھیں یہاں تک کہ حکیم کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس قوم کے نبیعَلَـیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ’’فلاں شخص سے کہہ دو تو نے زمین کو کثرتِ کلام 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۴۔
2…المستدرک، کتاب الھجرۃ، باب وصف اھل الصفۃ مفصلاً، الحدیث:۴۳۵۰، ج۳، ص۵۵۴۔
	حلیۃ الاولیاء، مقدمۃ المصنف، الحدیث:۲۸، ج۱، ص۴۸۔
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۴۔
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱،ص۲۴۵۔