فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ملاحظہ کی اور یہی فرمایا ،پس حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فقیہعلی بن حِرزْھَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو کوڑے لگانے کاحکم دیا،جب پانچ کوڑے لگ چکے تو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سفارش کرتے ہوئے عرض کی: ’’یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! شایدانہوں نے اپنے گمان میں اس کتاب کوآپ کی سنت کے خلاف سمجھا تو غلطی کرگئے۔‘‘چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا امام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی اس پرراضی ہوگئے اوروہ سفارش قبول کرلی گئی۔ حضرت سیِّدُناعلی بن حِرزْھَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب بیدار ہوئے تو کوڑوں کا اثر پیٹھ پرموجود تھا ۔آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب کوبیان کیااوررب تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کی اور اپنے اس عمل کی معافی طلب کی مگرطویل عرصے(یعنی ایک مہینے) تک کوڑوں کا درد محسوس کرتے رہے۔ اس دوران بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑاکر عاجزی وانکساری کے ساتھ دعا اوررحمت عالَم ، نورِ مجسم،شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے شفاعت کا سوال کرتے رہتے یہاں تک کہ دوبارہ خواب میں زیارت سرکارِ اعظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مشرف ہوئے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دست ِ کریمانہ ان کی پیٹھ پر پھیراتو درد جاتا رہا اورانہیں بحکم الہٰی معافی وشفاعت مل گئی۔اس کے بعدسے انہوں نے اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کے مطالعے کو خود پر لازم کرلیاتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر باطن کے دروازے کھول دیئے،انہوں نے معرفت الٰہی سے وافر حصہ پایا، اکابر مشائخ کی صف میں شمار ہوئے اور ظاہری وباطنی علوم والے بن گئے۔(۱)
حضرت سیِّدُنا امام جلال الدین عبدالرحمن سُیُوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی(متوفی۹۱۱ھ) نقل کرتے ہیں کہ ’’جس دن حضرت سیِّدُنا ابوالحسن علی بن حِرزْھَمرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ(متوفی۵۵۹ھ) کا انتقال ہو ا تو کوڑوں کا نشان اُن کی پیٹھ پر موجود تھا۔‘‘(۲)
{…صَلُوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… تعریف الاحیاء بفضائل الاحیاء علی ہامش احیاء علوم الدین ، ج۵، ص۳۵۷۔
طبقات الشافعیۃ الکبری، ج۶، ص۲۵۸۔
2…تشیید الارکان علی ہامش احیاء علوم الدین، ج۵، ص۳۹۴۔