کو وقار کے ساتھ عاجزی سے زیادہ خوبصورت لباس نہیں پہناتا اور یہی انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لباس ہے اور صالحین و صادقین کو بھی اس لباس سے خاص کیا جاتا ہے۔‘‘ (۱) جبکہ زیادہ گفتگو کرنا، ہر وقت ہنسی مذاق کرنا، حرکت و گفتگو میں تیزی دکھانا، یہ تمام تکبر کی علامات ہیں ۔ بے خوفی اور غفلت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عذابوں میں سے ایک بڑا عذاب اور اس کی سخت ناراضی کا باعث ہے۔ یہ معرفت ِالٰہی رکھنے والوں کا طریقہ نہیں بلکہ دنیا داروں کا طریقہ ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہوتے ہیں ۔
علما کی اقسام:
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللّٰہ تستری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ علما کی تین اقسام ہیں :
(۱)…وہ علماجو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اَوامر سے واقف ہیں لیکن اس کے ایام کو نہیں جانتے۔ یہ حلال وحرام کا فتویٰ دینے والے مفتی ہیں اوریہ ایسا علم ہے جس سے خوف(خدا) پیدا نہیں ہوتا۔
(۲)…وہ علما جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ تو اس کے اَوامر کو جانتے ہیں اور نہ ہی ایام سے واقف ہوتے ہیں ، یہ عام مؤمنین ہیں ۔
(۳)…وہ علماجو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اس کے اَوامر اور ایام کا علم بھی رکھتے ہیں ۔ یہ صدیقین ہیں ، ان پر خشیت و خشوع کا غلبہ رہتا ہے۔ (۲)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ایام سے مراد اس کی پوشیدہ سزائیں اور باطنی نعمتیں ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے گزرے ہوئے لوگوں پر اُتاریں ۔ لہٰذا جس شخص کا علم اس کا احاطہ کرلے گا اس کے خوفِ خدا میں اضافہ اور خشوع وخضوع ظاہر ہوگا۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’علم سیکھو اور علم کے لئے سکینہ، وقار اور حلم سیکھو، جس سے علم سیکھتے ہو اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو اور جو تم سے علم سیکھے وہ تمہارے سامنے عاجزی اور تواضع اختیار کرے۔ تکبر کرنے والے علما میں سے نہ ہونا تاکہ تمہارا علم تمہاری جہالت کی طرح نہ ہوجائے۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، ج۱، ص۲۴۲۔
2…المرجع السابق ۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد عمر بن الخطاب، الحدیث:۶۳۰، ص۱۴۸۔
شعب الایمان للبیہقی، باب فی نشر العلم، الحدیث:۱۷۸۹، ج۲، ص۲۸۷۔