Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
258 - 1087
 بچتا ہے۔ جب یقین غالب ہوجاتا ہے تو وہ گناہوں سے بہت زیادہ بچتا اور ہر وقت فرمانبرداری کے لئے تیار رہتا ہے۔
(۴)…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہر حال میں مطلع ہے: اس بات کا یقین کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہر حال میں تجھ پر مطلع ہے، تیرے دل کے وسوسوں ، پوشیدہ خطروں اور فکروں کو دیکھ رہا ہے اور معنی اوّل جو کہ ’’عدم شک ہے‘‘ کے اعتبار سے ہر مومن اس بات کا یقین رکھتا ہے۔ بہرحال معنی ثانی جو کہ مقصود بھی ہے اور قلیل بھی یہ صرف صدیقین کے ساتھ خاص ہے اور اس کا حاصل یہ ہے کہ انسان تنہائی میں بھی اپنے تمام معاملات میں ادب کو اس شخص کی طرح ملحوظِ خاطر رکھے جو بہت بڑے بادشاہ کے سامنے بیٹھا ہو اور بادشاہ اسے دیکھ رہا ہو تو وہ گردن جھکائے اپنے تمام معاملات میں باادَب رہتا اور خلافِ ادَب ہر بات سے بچتا ہے۔ اسی طرح جب وہ یقین کرلے کہ اللّٰہعَلِیْم وخَبِیْرعَزَّوَجَلَّ  اس کی خفیہ باتوں پر اس طرح مطلع ہے جیسے مخلوق اس کی ظاہری باتوں پر تو وہ اپنے باطنی معاملات میں بھی اس طرح فکرمند ہوگا جس طرح اپنے ظاہری معاملات میں فکرمند ہوتا ہے بلکہ باطن کو سنوارنے، اسے پاکیزہ رکھنے اور مزین کرنے میں اس سے زیادہ مبالغہ کرے گا جتنا اپنے ظاہر کو لوگوں کے لئے مزین کرنے میں مبالغہ کرتا ہے۔ اس مرتبے کا یقین حیا، خوف، انکساری، عاجزی، مسکنت، خضوع اور تمام اچھے اخلاق پیدا کرتا ہے جو بلندترین طاعتوں کا سبب ہیں ۔ لہٰذا یقین ان تمام امور میں سے ہر امر میں ایک درخت کی مثل ہے اور یہ اخلاق دل میں ان شاخوں کی مثل ہیں جو یقین کے درخت سے نکلی ہوں اور اخلاق سے صادر ہونے والے اعمال اور طاعات ان پھلوں اور شگوفوں کی طرح ہیں جو ٹہنیوں سے نکلتے ہیں ۔ پس یقین اصل اور بنیاد ہے اس کے جاری ہونے کے کئی ابواب ہیں جو ہماری ذکر کردہ تفصیل سے بہت زیادہ ہے۔ عنقریب ان کا ذکر اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ منجیات(یعنی نجات دینے والے امور) کے بیان میں آئے گا۔ اس وقت یقین کے بارے میں اتنی تفصیل ہی کافی ہے۔
{9}…علمائے آخرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایسا عالم غمگین ہوکر انکساری سے سر جھکائے خاموش رہے اور خشیت کا اثر اس کی سیرت وصورت، لباس، حرکات وسکنات، بولنے اور خاموش رہنے سے ظاہر ہو، دیکھنے والا جب اسے دیکھے تو اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یاد آجائے، اس کی صورت اس کے عمل پر دلیل ہو اور اس کا ظاہر اس کے باطن کا آئینہ ہو۔ نیز علمائے آخرت سکون، عاجزی اور تواضع میں اپنی پیشانیوں سے پہچانے جاتے ہیں ۔ منقول ہے کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بندے