Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
257 - 1087
ستارے، جمادات، نباتات، حیوانات اور ساری مخلوق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے اس طرح تابع ہے جس طرح قلم کاتب کے ہاتھ میں اور یہ کہ قدرتِ ازلیہ ہی تمام مخلوق کے صادر ہونے کا ذریعہ ہے تو اس کے دل پر توکل، رضا اور تسلیم کا غلبہ ہوگا اور وہ ایسا یقین والا ہوگا جو غضب، بغض وکینہ، حسد اور برے اخلاق سے بری ہوگا۔ یہ یقین کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔
(۲)…رزق کا ضامن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہے: اس پر یقین ہو کہ سب کے رزق کاضامن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہے۔ چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا(پ۱۲،ھود:۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ کے ذمۂ کرم پر نہ ہو۔
	اور اس بات کا یقین کہ اس کا رزق اسے مل کر ہی رہے گا اور جو کچھ اس کے مقدَّر میں ہے وہ اس تک ضرور پہنچایا جائے گا۔ جب یہ یقین اس کے دل پر غالب آجائے گا تو وہ طلب میں شدَّت نہیں کرے گا، نہ تواس کی حرص و خواہش بڑھے گی اور نہ ہی رزق کے فوت ہونے پر اسے افسوس ہوگا۔ اس یقین کے نتیجے میں تمام نیکیاں اور عمدہ اخلاق حاصل ہوتے ہیں ۔
(۳)…اس بات کا یقین رکھنا کہ جو ذرہ بھر بھلائی کرے گا اسے دیکھے گا اور ذرہ بھر برائی کرے گا اسے دیکھے گا:
 اس سے ثواب و عذاب کا یقین مراد ہے حتی کہ وہ ثواب کی طرف طاعات کی ایسی ہی نسبت جانے جیسے روٹی کی نسبت شکم سیری کی طرف ہے اور گناہوں کی نسبت عذاب کی طرف ایسے خیال کرے جیسے زہر اور سانپوں کی نسبت ہلاکت کی طرف ہے۔ چنانچہ، جس طرح وہ شکم سیری کے لئے روٹی حاصل کرنے پر حریص ہے اور اس کی کمی وزیادتی کا خیال رکھتا ہے اسی طرح تمام نیکیوں پر بھی حریص ہو تھوڑی ہوں یا زیادہ اور جس طرح زہر سے اجتناب کرتا ہے تھوڑا ہو یا زیادہ اسی طرح گناہوں سے بھی اجتناب کرے چاہے کم ہوں یا زیادہ، چھوٹے ہوں یا بڑے۔ یقین پہلے معنی کے اعتبار سے عام ایمان والوں میں بھی پایا جاتا ہے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے مقربین کے ساتھ خاص ہے۔ اس یقین کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی حرکات وسکنات اور خطرات کو اچھی طرح دیکھتا رہتا ہے، تقویٰ میں مبالغہ کرتا اور ہر قسم کی برائی سے