Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
256 - 1087
 کو نفس پر مسلط کرنا یہاں تک کہ وہ اس پر غالب آجائے اور نفس پر حکم لگانے والا اور اس میں تصرف کرنے والا ہو جائے ۔
یقین کی اقسام:
	اگر تم یہ سمجھ گئے ہو تو پھریہ بھی جان گئے ہوگے کہ ہمارے قول کا مطلب یہ ہے کہ یقین تین قسموں کی طرف منقسم ہوتا ہے:(۱)… قوت وضعف(۲)… کثرت وقلت اور(۳) ظہورو خفا۔ قوت وضعف کے اعتبار سے اس کی تقسیم اِصطلاحِ ثانی(فقہا کی اصطلاح) کے مطابق ہے اور اصطلاحِ ثانی دل پر غالب آنے کے اعتبار سے ہے اور قوت وضعف میں یقین کے معانی کے درجات بے انتہا ہیں ۔ ان معانی کے اعتبار سے یقین کے تفاوت کے مطابق مخلوق موت کی تیاری میں بھی مختلف ہے۔ ظہور وخفا کے اعتبار سے یقین میں تفاوت پہلی (یعنی متکلمین کی)اصطلاح کے مطابق ہے۔ یقین کا قلیل اور کثیر ہونا اس کے متعلقات کے کثیر ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص فلاں سے زیادہ عالم ہے یعنی اس کی معلومات اس سے زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے کوئی عالم تمام شرعی مسائل میں قوی یقین والا ہوتا ہے اور کوئی بعض مسائل میں قوی یقین رکھتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہو کہ میں یقین، اس کے قوی و ضعیف، کثیرو قلیل،ظاہرو خفی ہونے کو شک کی نفی یا دل پر اس کے غلبہ پانے کے معنی سے سمجھ گیا ہوں اب مجھے یہ بتائیں کہ یقین کے متعلقات اور اس کے جاری ہونے کا معنی کیاہے اور کس میں یقین مطلوب ہے؟ کیونکہ میں اس بات کو جانے بغیر کہ یقین کن باتوں میں مطلوب ہے، اسے طلب کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔ تواس کا جواب یہ ہے کہ جان لو انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جو بھی احکام لے کر تشریف لائے ان تمام پر یقین رکھنا ضروری ہے اس لئے کہ یقین خاص معرفت کا نام ہے جو ان معلومات سے متعلق ہے جو شریعت میں وارد ہوئی ہیں ، انہیں شمار نہیں کیا جاسکتا تاہم میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کروں گا جو ان تمام کی اصل ہیں ۔
(۱)… توحید: اور وہ یہ ہے کہ سب چیزیں مسبب الاسباب(یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ) کی طرف سے جانی جائیں اور اسباب کی طرف دھیان نہ دیا جائے بلکہ اسباب کے بارے میں یہ نظریہ رکھا جائے کہ وہ تو خودمسخَّر ہیں ، ان کا اپنا کوئی حکم نہیں ۔ پس اس بات کی تصدیق کرنے والا صاحب یقین ہے۔جب یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سورج، چاند،