کے ہونا محال ہے یا تواتر کے ذریعے حاصل ہو جیسے شہر مکہ مکرمہ کے وجود کا علم یا تجربہ سے حاصل ہو جیسا کہ اس بات کا علم کہ پکا ہوا سقمونیا دست آور ہے یا دلیل سے حاصل ہو جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں ۔
خلاصہ: متکلمین کے نزدیک لفظ یقین کا اطلاق عدم شک کے وقت ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ علم جس میں شک نہ ہو متکلمین کے نزدیک وہ یقین ہے اس بنیاد پر یقین ضعف کے ساتھ متصف نہیں ہوتا کیونکہ شک کی نفی میں تفاوت نہیں ۔
یقین کے متعلق فقہا و صوفیہ کی اصطلاح:
فقہائے کرام، صوفیائے عظام اور اکثر علمائے دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی مراد یہ ہے کہ یقین میں تجویز اور شک کے اعتبار کرنے کی طرف بالکل توجہ نہ دی جائے بلکہ عقل پر اس کے استیلا اور غلبہ کی طرف دھیان دیا جائے یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ ’’فلاں شخص کا موت پر یقین کمزور ہے حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں ۔‘‘ نیز کہا جاتا ہے کہ ’’فلاں شخص کو رزق ملنے پر بڑا یقین ہے حالانکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ کبھی اسے رزق نہ ملے۔‘‘
خلاصہ:توجب کبھی دل کسی شے کی تصدیق کی طرف مائل ہو اور یہ میلان اس کے دل پر اتنا غالب آجائے اور دل کو اتنا گھیر لے کہ یہ نفس میں کسی چیز کے امکان و منع (یعنی ہونے یا نہ ہونے)کا حکم لگانے والا اور تصرف کرنے والا ہوجائے تو اسے یقین کا نام دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سب لوگ موت کے یقینی ہونے اور اس میں شک کے نہ ہونے میں برابر ہیں اس کے باوجود ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کی طرف دھیان نہیں دیتے اور نہ موت کی تیاری کرتے ہیں گویا انہیں موت کا یقین نہیں ہے اور کچھ ایسے ہیں کہ جن کے دل پر موت کی فکر قابض ہوتی ہے یہاں تک کہ ان کی ساری ہمت موت کی تیاری ہی میں صرف ہوتی ہے اور موت کی تیاری میں وہ اپنے غیرکے لئے کچھ گنجائش نہیں چھوڑتے۔ اس حالت کو قوتِ یقین سے تعبیرکیا جاتا ہے اسی وجہ سے بعض نے کہا کہ ’’جس یقین میں تو شک کو نہ پائے وہ اس شک کی مثل ہے جس میں یقین نہ ہو جیسے موت۔‘‘ (۱)
اس اصطلاح کی بنیاد پر یقین ضعف اور قوت سے متصف ہوسکتا ہے اور ہمارے اس قول کہ ’’علمائے آخرت کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی قوت، یقین پختہ کرنے میں صرف کرتے ہیں ‘‘ سے دونوں معنی مراد ہیں اور وہ یہ کہ شک کی نفی پھر یقین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الیقین، الحدیث:۴۲، ج۱، ص۴۰۔
حلیۃ الاولیاء، سلمۃ بن دینار، الرقم:۳۹۲۱، ج۳، ص۲۶۹، بتغیرٍقلیلٍ۔