کے ساتھ نہیں ہوتی کیونکہ اگر اس حالت سے دوچار شخص اچھی طرح غور وفکر کرے اور تشکیک وتجویز(شک وجواز) کی طرف توجہ کرے تو اس کے نفس میں تجویز(جواز) کی گنجائش نکل آئے گی۔ اس حالت کو یقین کے قریب اعتقاد کا نام دیا جاتا ہے اور یہ عوام کا تمام شرعی مسائل میں اعتقاد ہے کیونکہ یہ اعتقاد ان کے دلوں میں محض سننے سے ہی راسخ ہوگیا یہاں تک کہ ہر فرقہ اپنے مذہب کے صحیح ہونے، اپنے امام اور متبوع(پیشوا) کے درست ہونے پر وثوق (یقین) رکھتا ہے اور اگر ان میں سے کسی کے پاس اس کے امام کی غلطی کا امکان ذکر کیا جائے تووہ اسے تسلیم نہیں کرتا۔
{4}…معرفت حقیقیہ جو ایسی دلیل سے حاصل ہو جس میں کوئی شک بلکہ شک کا تصور بھی نہ ہو اور جب شک کا پایا جانا اور اس کا امکان ممتنع ہو تو متکلمین اسے یقین کانام دیتے ہیں ۔مثال: جب کسی عقل مند سے پوچھا جائے کہ کیا کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہے جو قدیم ہو؟ تو اس کے لئے فوری طور پر اس کی تصدیق کرنا ممکن نہیں اس لئے کہ قدیم کو محسوس نہیں کیا جاسکتا کہ وہ چاند سورج کی طرح نہیں کیونکہ ان دونوں کے پائے جانے کی تصدیق حس کے ذریعے ہوتی ہے۔ کسی قدیم شے کے وجود کا علم اَزَلی اور بدیہی نہیں جیسے اس بات کا علم کہ دو ایک سے زیادہ ہے اور اس علم کی طرح بھی نہیں کہ کسی حادث کا بغیر سبب کے پیدا ہونا محال ہے کہ یہ بھی بدیہی ہے۔ لہٰذا عقلِ سلیم کا تقاضا ہے کہ وہ قدیم کے وجود کی تصدیق کو غوروفکر کے طریقہ پر موقوف کرے۔ پھر لوگوں میں کوئی وہ ہے جو اس بات کو سنتا ہے اور سن کر تصدیق کردیتا اور اسی پر قائم رہتا ہے یہ اعتقاد ہے اور یہ تمام عوام کا حال ہے۔ کوئی وہ ہے جو اس کی دلیل کے ساتھ تصدیق کرتا ہے اور وہ یہ کہ اس سے کہا جائے کہ اگر وجود میں کوئی قدیم نہیں تو تمام موجودات حادث ہوں گی اور اگر تمام موجودات حادث ہیں تو پھر وہ تمام یا ان میں سے بعض بغیر کسی سبب کے حادث ہیں ، یہ محال ہے اور محال تک پہنچانے والا بھی محال ہوتا ہے۔ پس عقلی طور پر ضرورتاً کسی قدیم شے کے وجود کی تصدیق لازم ہوئی اس لئے کہ موجودات کی تین قسمیں ہیں : (۱)…تمام موجودات قدیم ہیں (۲)… تمام حادث (۳)… کچھ قدیم اور کچھ حادث ہیں ۔ اگر تمام موجودات قدیم ہوں تو مطلوب حاصل ہوجائے گا اس لئے کہ اس طرح قدیم کا وجود ثابت ہوگا اور اگر تمام حادث ہوں تو یہ محال ہے کیونکہ یہ بغیر سبب کے حدوث کی طرف لے جاتا ہے۔ لہٰذا تیسری یا پہلی قسم ثابت ہوگی اور وہ تمام علوم جو اس طرح حاصل ہوں انہیں متکلمین یقین کانام دیتے ہیں خواہ وہ نظرو فکر سے حاصل ہوں جیساکہ ہم اس کے متعلق ذکر کر آئے یا حِس سے حاصل ہوں یا عقلِ سلیم سے جیسا کہ اس بات کا علم کہ حادث کا بغیر کسی سبب