Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
253 - 1087
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہو کہ یقین اور اس کے قوی وضعیف ہونے کا مطلب کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یاد رکھوپہلے یقین کو سمجھنا پھر ا سے طلب کرنا اور سیکھنا ضروری ہے کیونکہ جس چیز کا پتا نہ ہو اسے طلب کرنا ممکن نہیں ۔ لہٰذا جان لو کہ یقین ایک لفظ مشترک ہے جسے دونوں فریق (یعنی فقہا ومتکلمین) دو مختلف معانی کے لئے بولتے ہیں ۔
یقین کے متعلق متکلمین کی اصطلاح:
	 مناظرین اور متکلمین یقین کو عدمِ شک سے تعبیر کرتے ہیں اس لئے کسی شے کی تصدیق کی طرف نفس کے میلان کے چاراحوال ہیں :
{1}…تصدیق اور تکذیب کا برابر ہونا ہے اس حالت کو شک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مثال:جب تم سے کسی شخص معین کے بارے میں سوال کیا جائے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کو عذاب دے گا یا نہیں اور تمہیں اس کا حال معلوم نہ ہو تو تمہارا نفس اس کے بارے میں اِثبات یا نفی کا حکم لگانے کی طرف مائل نہ ہوگا بلکہ تمہارے نزدیک دونوں باتوں کا اِمکان برابر ہوگا اسی کا نام شک ہے۔
{2}…تمہار ا نفس دو باتوں میں سے ایک کی طرف مائل ہو حالانکہ اس کی نقیض (خلاف) کے ممکن ہونے کا شعور رکھتا ہو لیکن یہ امکان پہلی بات کے امکان کی ترجیح کو مانع نہ ہو۔ مثال: تم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جائے جس کی نیک نامی اور پرہیزگاری تم خاص طور پر جانتے ہو کہ اگر وہ اسی حالت پر مرجائے تو کیا اسے عذاب ہوگا تو تمہارا نفس اسے عذاب ہونے سے زیادہ اس بات کی طرف مائل ہوگا کہ اسے عذاب نہیں ہوگا اور یہ علامات ِنیکی کے ظاہر ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس کے باوجود تم اس بات کو ممکن مانتے ہو کہ ہوسکتا ہے اس کا کوئی باطنی معاملہ ایسا ہو جس کی وجہ سے اسے عذاب میں گرفتار ہونا پڑے۔ یہ امکان نفس کے اس میلان کے مساوی ہے تاہم پہلے امکان کی طرف رجحان کو دفع نہیں کرتا۔ اسی حالت کا نام ظن رکھا جاتا ہے۔
{3}…تمہارا نفس کسی شے کی تصدیق کی طرف اس طرح مائل ہو کہ وہ نفس پر غالب آجائے اور دل میں اس کے غیر کا خیال تک نہ گزرے اور اگر خیال آئے بھی تو نفس اسے قبول کرنے سے انکار کردے لیکن یہ تصدیق معرفت ِحقیقی