Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
252 - 1087
	یہی وجہ ہے کہ جب حضورنبی ٔرحمت، شفیع امتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ ’’ایک شخص کا یقین اچھا ہے مگر وہ گناہ بکثرت کرتا ہے اور ایک شخص عبادت میں کوشش بہت کرتا ہے لیکن اس کا یقین تھوڑا ہے۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’(انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علاوہ)ہر شخص کے کچھ گناہ ہوتے ہیں ۔‘‘  (۱)
	لیکن عقل جس کی قوت اور عادت جس کا یقین ہو اسے گناہ نقصان نہیں پہنچاتے کیونکہ جب کبھی اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ توبہ واستغفار کرتا اور شرمندہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں اور توبہ واستغفار سے اس کا کچھ حصہ بچ جاتا ہے جس کے بدلے اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
	اسی لئے سرکار مدینہ، قرار قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس کا قلیل ترین یقین اور صبر پر پختگی ہے اور جسے ان دونوں میں سے کچھ حصہ ملا اسے رات کے قیام اور دن کے روزوں کے فوت ہونے کی کوئی پرواہ نہیں ۔‘‘  (۲)
	حضرت سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے بیٹے! عمل کی استطاعت یقین سے حاصل ہوتی ہے اور آدمی اپنے یقین کے مطابق ہی عمل کرتا ہے اور عمل میں کمی اس وقت کرتا ہے جب اس کا یقین ناقص ہوجاتا ہے۔‘‘  (۳)
نورِ توحید اور شرک کی آگ:
	حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رازیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ’’بے شک توحید کے لئے ایک نور اور شرک کے لئے ایک آگ ہے۔ نورِ توحید مؤمنین کے گناہوں کو اس سے زیادہ جلاتا ہے جتنا شرک کی آگ مشرکین کی نیکیوں کو جلاتی ہے۔‘‘  (۴)
نورِ توحید سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی مراد یقین ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں اہل یقین کا ذکر کثیر مقامات پر فرمایا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یقین بھلائیوں اور سعادتوں کے درمیان رابطہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون: کتاب العلم وتفضیلہ، المقام الثالث من الیقین، ج۱، ص۲۳۵۔
2…المرجع السابق۔		
3…المرجع السابق، یتغیرٍ۔	
4…المرجع السابق۔