اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حجتیں اوردلائل باطل نہ ہوں ۔ وہ لوگ کتنے ہیں اور کہاں ہیں ؟ وہ تعداد کے اعتبار سے کم ہیں لیکن ان کا مقام بہت بلند ہے وہ ظاہری طور پر مفقود ہوتے ہیں مگر ان کی مثالیں دلوں میں موجود ہوتی ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کے ذریعے اپنے دلائل کی حفاظت فرماتا ہے تاکہ وہ ان دلائل کو اپنے بعد والوں کے حوالے کریں اور ان کے دلوں میں انہیں محفوظ اور پختہ کریں ۔ علم نے انہیں معاملے کی حقیقت تک پہنچا دیا تو یہ یقین کی روح سے جا ملے اور انہوں نے ان امور کو نرم پایا جنہیں خوشحال لوگ سخت پاتے اور غافل لوگ وحشت کھاتے ہیں ۔ یہ اس سے مانوس ہوگئے اور ان ہستیوں کی ارواح کے ساتھ مل کر دنیا کی مصاحبت اختیار کی جو کہ اعلیٰ مقام پر فائز ہیں ۔ مخلوق میں سے یہی لوگ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اولیا ہیں ، اس کے امین، زمین میں اس کے عمال اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں ۔‘‘ یہ فرمانے کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے پھر فرمایا: ’’ان لوگوں کو دیکھنے کا کتنا شوق ہے۔‘‘ (۱)
آخر میں ذکر کی گئی نشانی علمائے آخرت کی علامت ہے اور یہ وہی علم ہے جس کا اکثر عمل اور مجاہدہ پر ہمیشگی اختیار کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
یقین کی اہمیت و فضیلت:
حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’یقین مکمل ایمان ہے۔‘‘ (۲)
لہٰذا علم یقین کی ابتدائی باتوں کا سیکھنا ضروری ہے پھر دل کے لئے اس کا راستہ کھل جائے گا۔
اسی وجہ سے پیارے مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تَعَلَّمُوْا الْیَقِیْن یعنی علم یقین حاصل کرو۔‘‘ (۳)
اس حدیث پاک سے مراد یہ ہے کہ یقین والوں کے پاس بیٹھو اور ان سے علم یقین کی سماعت اور ان کی اقتدا پر ہمیشگی اختیار کرو تاکہ تمہارا یقین بھی اسی طرح قوی ہوجائے جس طرح ان کا یقین قوی ہے اور تھوڑا یقین زیادہ عمل سے بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ، ج۱، ص۲۳۲۔
حلیۃ الاولیاء، علی بن ابی طالب، الرقم:۲۴۳، ج۱، ص۱۲۱، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…شعب الایمان للبیہقی، باب فی الصبر علی المصائب، الحدیث:۹۷۱۶، ج۷، ص۱۲۳۔
3…حلیۃ الاولیاء، ثوربن یزید، الحدیث:۷۹۵۵، ج۶، ص۹۹۔
موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الیقین، الحدیث:۷، ج۱، ص۲۲۔