باریکیوں کا معاملہ ہے۔کیونکہ ان علوم میں سے ہر علم ایک سمندر ہے جس کی گہرائی کو نہیں پہنچا جاسکتا۔ اس میں ہر طالب اتنا ہی غوطہ زن ہوتا ہے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا اور جس قدر اسے حسن عمل کی توفیق ہوتی ہے۔
علمازندہ رہتے ہیں :
علما کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک طویل حدیث پاک میں فرمایا کہ ’’دل برتنوں کی مانند ہیں اور ان میں بہترین وہ ہیں جن میں زیادہ بھلائی جمع ہے۔ لوگ تین قسم کے ہیں : (۱)عالم ربانی (۲)راہِ نجات پر چلنے والا طالب علم اور (۳)بے وقوف اور معمولی درجے کے لوگ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے چل پڑتے ہیں ، ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ جھک جاتے ہیں ، نورِ علم سے روشنی حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی مضبوط سہارا لیتے ہیں ۔ علم مال سے بہتر ہے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی تم حفاظت کرتے ہو۔ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے۔ علم، دین ہے اسے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے زندگی میں اطاعت کی جاتی اور بعدوصال یہ ذکر ِخیر کا ذریعہ ہے۔ علم حاکم ہے جبکہ مال محکوم۔ مال ختم ہونے سے اس کی منفعت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ مال جمع کرنے والے مرجاتے ہیں جبکہ علما کا ذکر زندہ رہتا ہے جب تک زمانہ باقی ہے۔‘‘ (۱)
پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لمبا سانس لیا اور سینے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’ یہاں بہت علم ہے۔ کاش! مجھے کوئی ایسا مل جاتا جو اسے اٹھا سکتا، میں ایسا طالب پاتا ہوں جو بااعتماد نہیں ، وہ دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بناتا ہے، وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کی وجہ سے اس کے اولیا پر زبانِ طعن دراز کرتا اور اس کی مخلوق پر حجت بازی کرکے غالب آتا ہے یا اہل حق پر تنقید کرتا ہے لیکن اس کے دل میں پہلا شبہ وارد ہوتے ہی شک جم جاتا ہے۔ اسے کوئی بصیرت حاصل نہیں ہوتی نہ یہ نہ وہ یا وہ لذَّات کا غلام اور خواہشات کی قید میں بند ہے۔ یا اموال جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے سے دھوکا کھانے والا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہے اور ان دونوں کاموں میں وہ چرنے والے جانوروں کے مشابہ ہے۔ اسی طرح جب علم کے محافظ فوت ہوجاتے ہیں تو کیا یونہی علم فوت ہوجاتا ہے، نہیں بلکہ زمین ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہوتی جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے حجت قائم کریں بلکہ یا تو وہ ظاہر مشہور ہوتے ہیں یا پوشیدہ اور چھپے ہوئے تاکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…حلیۃ الاولیاء، علی بن ابی طالب، الرقم:۲۴۳، ج۱، ص۱۲۱، بتغیرٍقلیلٍ۔