مجھے بتایا کہ ایک شخص نے فقہ شافعی کے درس میں حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کو بُرا بھلا کہا تو میں بڑا غمگین ہوا، رات اسی غم کی حالت میں نیند آگئی خواب میں حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی زیارت ہوئی، میں نے برا بھلا کہنے والے شخص کا تذکرہ کیا تو فرمایا:’’ فکر نہ کرو وہ کل مرجائے گا۔‘‘ چنانچہ، صبح جب میں حلقہ ٔ درس میں حاضر ہوا تو اس شخص کو ہشاش بشاش دیکھا مگر جب وہ وہاں سے نکلا تو گھر جاتے ہوئے راستے میں سواری سے گر گیا اور زخمی حالت میں گھر پہنچا اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہی مر گیا۔(۱)
پانچ کوڑوں کی سزا:
حضرت سیِّدُنا امام عبداللّٰہ بن اسعد یافِعِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی(متوفی۷۶۸ھ)نقل کرتے ہیں کہ مشہورمغربی فقیہ حضرت سیِّدُنا ابوالحسن علی بن حِرزْھَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ(متوفی۵۵۹ھ)شروع میں اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کا بہت رد کیا کرتے تھے حتی کہ ایک بارانہوں نے اس کتاب کے کئی نسخے جمع کرکے جمعہ کے دن جامع مسجدمیں جلاڈالنے کاارادہ کیامگراسی جمعہ کی شب خواب دیکھاکہ وہ جامع مسجدمیں داخل ہوئے۔کیادیکھتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں جلوہ فرماہیں اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَـا بھی موجود ہیں اور سامنے حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیکھڑے ہیں ۔ جب یہ سامنے ہوئے تو سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ مجھ سے جھگڑتے ہیں ،اگرمعاملہ ایساہی ہے جیسایہ گمان کرتے ہیں تومیں بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرتاہوں اور اگرمیراموقف آپ کی برکت اوراتباعِ سنت سے حاصل شدہ ہے اور میں حق پر ہوں تو ان سے میرا حق دلائیے ۔‘‘یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِحْیَاءُ الْعُلُوْم لی اور ایک ایک صفحہ کرکے مکمل ملاحظہ فرمائی پھر ارشاد فرمایا: ’’خداکی قسم! یہ تو بہت اچھی ہے۔‘‘پھر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھی تو فرمایا : ’’جی ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا!یقیناًیہ بہت اچھی ہے ۔‘‘پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۱۴۔
طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی، ج۶، ص۲۱۹۔