Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
249 - 1087
	قرآنِ حکیم کے اسرار میں سے کتنے ہی دقیق معانی ایسے ہیں جو ان لوگوں کے دلوں پر ظاہر ہوتے ہیں جو ذکر وفکر کے لئے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیتے ہیں ، کتبِ تفسیر ان معانی سے خالی ہیں اور بڑے درجے کے مفسرین بھی ان پر مطلع نہیں ہوتے۔ جب کسی مراقبہ کرنے والے سالک پر یہ معانی منکشف ہوئے اوریہ معانی اس نے مفسرین کو پیش کئے تو انہوں نے اس کی تحسین کی اور جان لیا کہ یہ پاکیزہ دل والوں اور بلند ہمت لوگوں پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا لطف وکرم ہے جو اس کی طرف متوجہ ہے۔اسی طرح علوم مکاشفہ، علوم معاملہ کے اسرار اور دلوں پر گزرنے والے خطرات کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے ، یا یہ کہ وہ بندہ فنافی اللّٰہہوجاتا ہے جس سے خدائیی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ویسے کام کرلیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے مصر سے چلی ہوئی قمیص یوسفی کی خوشبو سونگھ لی، حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی حضرت آصف برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تخت بلقیس لا کر شام میں حاضر کردیا۔ حضرت عمر نے مدینہ منورہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔ حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے قیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالیے۔ یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں آج نار کی طاقت سے ریڈیو تار، وائرلیس ٹیلی ویژن عجیب کرشمے دکھا رہے ہیں تو نور کی طاقت کا کیا پوچھنا اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو طاقت اولیاء کے منکر ہے، بعض صوفیاء جوش میں سبحانی ما اعظم شانی کہہ گئے۔وہ بندہ مقبول الدعاء بن جاتا ہے کہ مجھ سے خیر مانگے یا شر سے پناہ میں اس کی ضرور سنتا ہوں معلوم ہوا کہ اولیاء رب تعالیٰ کی پناہ میں رہتے ہیں تو جو شخص ان سے دعا کرائے اس کی قبول ہوگی اور جو ان کی پناہ میں آئے وہ رب کی پناہ میں آجائے گا۔سبحان اللّٰہ !کیا نازو انداز والا کلام ہے یعنی میں رب ہوں اور اپنے کسی فیصلہ میں کبھی نہ توقف کرتا ہوں نہ تامل، جو چاہوں حکم کروں ، مگر ایک موقعہ پر ہم توقف و تامل فرماتے ہیں وہ یہ کہ کسی ولی کا وقت ِموت آجائے اور وہ ولی ابھی مرنا نہ چاہے تو ہم اسے فوراً نہیں مار دیتے بلکہ اسے اولاً موت کی طرف مائل کردیتے ہیں جنت اور وہاں کی نعمتیں اسے دکھا دیتے ہیں اور بیماریاں پریشانیاں اس پر نازل کردیتے ہیں جس سے ا س کا دل دنیا سے متنفر ہوجاتا ہے اور آخرت کا مشتاق پھر وہ خود آنا چاہتا ہے اور خوش خوش ہنستا ہوا ہمارے پاس آتا ہے ، یہاں تردد کے معنے حیرانی پریشانی نہیں کہ وہ بے علمی سے ہوتی ہے رب تعالیٰ اس سے پاک ہے بلکہ مطلب وہ ہے جو فقیر نے عرض کیا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات کا واقعہ اس حدیث کی تفسیر ہے حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ انبیائے کرام کو موت و زندگی کا اختیار دیا جاتا ہے وہ حضرات اپنے اختیار سے خوشی خوشی موت قبول کرتے ہیں اور یار خنداں رود بجانب یار کا ظہور ہوتا ہے۔غرضیکہ ہماری موت تو چھوٹنے کا دن ہے اور اولیاء انبیاء کی وفات پیاروں سے ملنے کا دن اسی لیے ان کی موت کے دن کو عرس یعنی شادی کا دن کہا جاتا ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ  تعالیٰ کے ارادہ مشیت، رضا کراہت میں بہت فرق ہے بعض چیزیں رب تعالیٰ کو ناپسند ہیں مگر ان کا ارادہ ہے بعض چیزیں پسند ہیں مگر ان کا ارادہ نہیں ۔(مراٰۃ المناجیح،ج۳،ص ۳۰۸ تا۳۱۰،مخلصًا)