بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتاہے اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ اگروہ مجھ سے مانگے تومیں اسے ضرور دیتا ہوں اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تومیں اسے پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام میں تردد نہیں ہوتا جسے میں کرتا ہوں ۔ میں کسی کام کے کرنے میں کبھی اس طرح تردد نہیں کرتا جس طرح جانِ مومن قبض کرتے وقت تردد کرتا ہوں کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے مکروہ سمجھنے کو برا جانتا ہوں ۔‘‘ (۱) (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، الحدیث:۶۵۰۲، ج۴، ص۲۴۸۔
2…ولیاللّٰہ وہ بندہ ہے جس کا اللّٰہ تعالیٰ والی وارث ہوگیا کہ اُسے ایک آن کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے ، رب تعالیٰ فرماتا ہے : وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹۶﴾(پ۹،الاعراف:۱۹۶) اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالیٰ کی عبادت کا متولی ہوجائے، پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مراد ہے اور دوسرے کا نام سالک یا مرید ہے وہاں ہر مراد مرید ہے اور ہر مرید مراد فرق صرف ابتداء میں ہے یہ مقام قال سے وراء ہے حال سے معلوم ہوسکتا ہے۔ جو میرے ایک ولی کا دشمن ہے وہ مجھ سے جنگ کرنے کو تیار ہوجائے خداکی پناہ،یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے صرف دو گناہوں پر بندے کو رب تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ دیا گیا ہے، ایک سود خوار، دوسرے دشمن اولیاء ،رب تعالیٰ فرماتا ہے :فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖۚ (پ۳،البقرۃ: ۲۷۹) ۔ علماء فرماتے ہیں کہ ولی کا دشمن کافر ہے اور اس کے کفر پر مرنے کا اندیشہ ہے ۔ ( مرقات) خیال رہے کہ ایک ہے ولیاللّٰہ سے اس لیے عداوت و عناد کہ ولیاللّٰہہے یہ تو کفر ہے اسی کا یہاں ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلاف رائے یہ نہ کفر ہے نہ فسق لہٰذا اس حدیث کی بنا پر یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائی اور وہ صحابہ جن کی آپس میں لڑائیاں رہیں ان کو برا نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اختلاف رائے تھا عناد نہ تھا ، عناد و اختلاف میں بڑا فرق ہے، اس کے لیے ہماری کتاب امیر معاویہ دیکھئے حتی کہ حضرت سارا کو اس بنا پر برا نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے حضرت ہاجرہ و اسمٰعیلعَلَیْہِمَا السَّلَام کی مخالفت کی، اس لیے یہاں عادی فرمایا خالف نہ فرمایا اور لی ولیا فرمایا ولی اللّٰہنہ فرمایا ۔مجھ تک پہنچنے کے بہت ذریعہ ہیں ، مگر ان تمام ذرائع سے زیادہ محبوب ذریعہ ادائے فرائض ہے اسی لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ فرائض کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے ان کی ماخذ یہ حدیث ہے افسوس ان لوگوں پر جو فرض عبادات میں سستی کریں اور نوافل پر زور دیں اور ہزار افسوس ان پر جو بھنگ، چرس ،حرام گانے بجانے کو خدا رسی کا ذریعہ سمجھیں نماز روزے کے قریب نہ جائیں ۔بندہ مسلمان فرض عبادات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ میرا پیارا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرائض و نوافل کا جامع ہوتا ہے (مرقات) اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرائض چھوڑ کر نوافل ادا کرے محبت سے مراد کامل محبت ہے ۔ اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ ولی میں حلول کرجاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بو، کہ خدا تعالیٰ حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کفر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں ایک یہ کہ ولیاللّٰہ کے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے نیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہیں گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرارہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لیے استعمال نہیں کرتا، صرف میرے لیے استعمال کرتا ہے ہرچیز…