علم تو تمہارے دلوں میں ہے:
بعض سابقہ کتب میں لکھا ہے کہ ’’اے بنی اسرائیل! یہ نہ کہو کہ علم آسمان پر ہے اسے کون زمین پر اُتارے گا، نہ یہ کہو کہ علم زمین کی تہ میں ہے اسے اوپر کون لائے گا، نہ یہ کہو کہ سمندر کے اس پار ہے سمندر عبور کرکے اسے کون لائے گا بلکہ علم تمہارے دلوں میں رکھا گیا ہے۔ میرے سامنے روحانی آداب سیکھو اور صالحین کے اخلاق اپناؤ میں تمہارے دلوں میں اتنا علم ڈال دوں گا جو تمہیں ڈھانپ لے گا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللّٰہ تستریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : علما، عابدین اور زاہدین دنیا سے چلے گئے اور ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ، صرف صدیقین اور شہدا کے دل کھلے ہیں ۔ (۲)
پھر یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَا یَعْلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ (پ۷، الانعام:۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے۔
اور اگر اہلِ قلوب کے دلوں کا اِدراک باطنی نور کے ساتھ علم ظاہر پر حاکم نہ ہوتا تو رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ نہ فرماتے کہ ’’اپنے دل سے فتویٰ لو اگرچہ لوگ تمہیں کچھ بھی فتویٰ دیں ، اگرچہ لوگ تمہیں کچھ بھی فتویٰ دیں ، اگرچہ لوگ تمہیں کچھ بھی فتویٰ دیں ۔‘‘ (۳)
قرب الٰہی کے جلوے:
نیزحضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّارشاد فرماتاہے کہ ’’بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتارہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور جب میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتاہے اس کے ہاتھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون: کتاب العلم وتفضیلہ،ج۱، ص۲۳۸، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۲۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث وابصۃ بن معبد، الحدیث:۱۸۰۲۸، ج۶، ص۲۹۳۔
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۲۔