Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
246 - 1087
	 حضرت سیِّدُناا بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے کچھ پوچھا جاتا تو فرماتے: ’’حارثہ بن زید سے پوچھو۔‘‘  (۱)  
	حضرت سیِّدُناا بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے کچھ پوچھا جاتا تو فرماتے: سعید بن مسیب سے پوچھو۔‘‘   (۲)
 	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی موجودگی میں  ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے 20احادیث بیان فرمائیں ۔ ان سے اس کی شرح پوچھی گئی تو فرمایا:’’میرے پاس وہی تھا جو میں  نے بیان کردیا ہے۔‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ایک ایک حدیث کی شرح بیان کی تو لوگ ان کی عمدہ شرح اور ان کے حافظے سے حیران ہوگئے۔ تو صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مٹھی میں  کنکریاں  لے کر لوگوں  کو ماریں  اور فرمایا: ’’تم مجھ سے علم کے بارے میں  پوچھتے ہو حالانکہ تمہارے درمیان یہ بڑے عالم موجود ہیں ۔‘‘  (۳)
{7}…علمائے آخرت کی علامات میں  سے ایک علامت یہ ہے کہ ایساعالم علم باطن، دل کی نگرانی، راہِ آخرت اور اس پر چلنے کی کیفیت کو جاننے کی زیادہ کوشش کرے۔ مجاہدہ ومراقبہ کے ذریعے اس کے انکشاف کی سچی امید رکھے کیونکہ مجاہدے کے ذریعے مشاہدہ نصیب ہوتا ہے اور علوم قلب کی باریکیوں  سے دل سے حکمت کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔ کتابیں  اور تعلیم اس میں کام نہیں  آتیں  بلکہ حکمت تو شمار سے باہر ہے جو محض مجاہدے ومراقبے، ظاہری وباطنی اعمال بجا لانے اور تنہائی میں  حضورِ قلب اور صاف فکر وسوچ کے ساتھ مَاسِوَی اللّٰہ سے بے تعلق ہو کر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور حاضر ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ الہام کی چابی اور کشف کا منبع ہے۔ کتنے ہی طالب علم ایسے ہیں  جو عرصہ دراز تک علم سیکھتے رہے مگر سنے ہوئے ایک کلمہ سے آگے بڑھنے کی قدرت نہیں  رکھتے اور کتنے ایسے ہیں  کہ علم سیکھنے میں  کوتاہ ہیں  لیکن علم اور مراقبہ بہت زیادہ کرتے ہیں  جس کی وجہ سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کے لئے حکمت کے ایسے اسرار کھول دیتا ہے کہ عقلمندوں  کی عقلیں  حیران رہ جاتی ہیں ۔ اسی لئے سردارِمکہ مکرمہ، سلطان مدینہ منورہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے وہ علم بھی عطا فرما دیتا ہے جو اسے حاصل نہ ہو۔‘‘  (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔	 
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، ج۱، ص۲۵۴، ’’حارثۃ بن زید‘‘ بدلہ ’’جابر بن زید‘‘۔ 
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۴۔ 
3…المرجع السابق، ص۲۵۴۔۲۵۵۔ 
4…حلیۃ الاولیاء، احمد بن ابی الحواری، الحدیث:۱۴۳۲، ج۱۰، ص۱۳۔