چلو بھر لیتا ہے(۱) اور حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث حافی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کی مثال میٹھے کنوئیں جیسی ہے جو ڈھکا ہوا ہو لوگ اس کی طرف ایک ایک کرکے جاتے ہیں ۔(۲)
لوگ کہا کرتے تھے کہ فلاں عالم ہے، فلاں متکلم ہے، فلاں زیادہ کلام کرتا ہے اور فلاں زیادہ علم والا ہے۔(۳)
حضرت سیِّدُنا ابوسلیمانعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کہتے ہیں کہ معرفت کلام سے زیادہ سکوت کے قریب ہے۔(۴)
منقول ہے کہ جب علم زیادہ ہوتا ہے تو گفتگو کم ہوجاتی ہے اور جب گفتگو زیادہ ہوتی ہے تو علم کم ہوجاتا ہے۔(۵)
سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو نصیحت:
حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خط لکھا اور یہ دونوں ان میں سے ہیں جن کے درمیان حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔(۶) (خط کا مضمون کچھ اس طرح ہے:) اے میرے بھائی ! میں نے سنا ہے کہ آپ طبیب بن کر مریضوں کا علاج کرتے ہیں ، غور کرلیں اگر آپ واقعی طبیب ہیں تو اس کے متعلق کلام کریں ، آپ کے کلام میں شفا ہوگی اور اگر بتکلف طبیب بنے ہیں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈریں کہ کہیں کسی مسلمان کی جان نہ لے لیں ۔ (۷) اس کے بعد جب حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کچھ پوچھا جاتا توتوقف فرماتے ۔
فلاں سے پوچھو:
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کچھ پوچھا جاتا تو فرماتے: ’’ہمارے آزاد کردہ غلام حسن بصری سے پوچھو۔‘‘ (۸)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۵۔
2…المرجع السابق۔
3…المرجع السابق۔
4…المرجع السابق۔
5…المرجع السابق، مختصراً۔
قوت القلوب، الفصل السابع والعشرون، کتاب اساس المریدین، ج۱، ص۱۷۲، ’’العلم‘‘ بدلہ ’’العقل‘‘۔
6…صحیح البخاری، کتاب الادب، باب صنع الطعام والتکلف للضیف، الحدیث:۶۱۳۹، ج۱، ص۱۳۷۔
7…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۴۔
8…المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الزھد، باب ما قالوا فی البکاء من خشیۃ اللّٰہ، الحدیث:۷۴، ج۸، ص۳۰۶۔ الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۵۵ الحسن بن ابی الحسن، ج۷، ص۱۳۰۔