لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجْوٰىہُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوۡفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بـَیۡنَ النَّاسِ ؕ(پ۵،النسآء:۱۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگرجو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔
ایک عالم صاحب نے کوفہ کے ایک مجتہد کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: ’’تم جو فتویٰ دیتے اور رائے سے کام لیتے تھے اس کے بارے میں کیا دیکھا؟‘‘ انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے رخ پھیر لیا اور بتایا کہ ’’ہم نے اسے کچھ بھی نہیں پایا اور اس کا انجام اچھا نہیں پایا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا ابوحصینرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’موجودہ علما میں سے کوئی ایسے مسئلے کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر وہ مسئلہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا تو آپ اس کے لئے تمام اہلِ بدر کو جمع فرماتے۔‘‘ (۲)
بہرحال بغیر ضرورت کے نہ بولنا ہمیشہ سے علما کی عادت رہی ہے اور حدیث پاک میں ہے کہ ’’جب تم کسی کو دیکھو کہ اسے خاموشی اور دنیا سے بے رغبتی عطا ہوئی ہے تو اس کے قریب جاؤ کیونکہ اسے حکمت سکھائی گئی ہے۔‘‘ (۳)
عام و خاص عالم میں فرق:
منقول ہے کہ عالم یا تو عام عالم ہوتا ہے اور یہ مفتی ہے یہ لوگ حکمرانوں کے مصاحب ہوتے ہیں یا پھر وہ خاص عالم ہوتا ہے یہ وہ ہے جو اعمالِ قلب اور توحید کا عالم ہوتا ہے یہ لوگوں سے الگ تھلگ اور تنہا رہتے ہیں ۔ (۴)
دریائے دجلہ اور میٹھے کنوئیں کی مانند:
کہا جاتا تھا کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کی مثال دریائے دجلہ جیسی ہے جس سے ہر ایک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۹۔
2…المرجع السابق، ص۲۳۰۔ تاریخ دمشق لابن عساکر، الرقم:۴۶۰۷، عثمان بن عاصم بن حصین،ج۳۸، ص۴۱۱۔
3…سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب الزھد فی الدنیا، الحدیث:۴۱۰۱، ج۴، ص۴۲۲۔
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۳۱۔
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۵۔