Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
243 - 1087
ایثارِ صحابہ:
	مروی ہے کہ ’’اصحاب صفہ میں  سے کسی کو بھنا ہوا سر پیش کیا گیا توسخت فاقہ سے ہونے کے باوجود دوسرے کو ہدیہ کردیا اور انہوں  نے آگے ہدیہ کردیا یوں  وہ ان کے درمیان گھومتا رہا یہاں  تک کہ پھر پہلے کے پاس آگیا۔‘‘
	لہٰذا تم دیکھو کہ اب علما کا معاملہ کیسے الٹ ہوگیا ہے کہ جس سے بھاگنا چاہئے اسے طلب کیا جاتا ہے اور جسے طلب کرنا چاہئے اس سے بھاگا جاتا ہے۔ فتویٰ دینے سے احتراز کرنا اچھا ہے اس پر یہ مسند روایت شاہد ہے۔ چنانچہ،
	حضورِ اکرم، نور مجسم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تین قسم کے لوگ ہی فتویٰ دیتے ہیں  (۱)…حاکم (۲)…یا اس کا نائب (۳)…یا تکلف کرنے والا۔‘‘  (۱)
	صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن چار چیزوں  سے بچا کرتے تھے: ’’(۱)…حکمرانی سے (۲)…وصی بننے سے (۳)…امانت رکھنے سے اور (۴)…فتویٰ دینے سے۔‘‘  (۲)
	بعض اکابرین نے کہا کہ ’’وہ شخص فتویٰ دینے میں  زیادہ جلدی کرتا ہے جس کے پاس علم کم ہوتا ہے اور اس سے بچنے کی زیادہ کوشش وہ کرتا ہے جو زیادہ پرہیزگار ہوتا ہے۔‘‘  (۳)
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے پسندیدہ کام:
	صحابۂ کرام وتابعین عظام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْنپانچ چیزوں  میں  مشغول رہتے تھے: ’’(۱)…تلاوتِ قرآن (۲)…مساجد کی آبادکاری (۳)…ذِکْرُاللّٰہ (۴)…نیکی کی دعوت دینا اور(۵)… برائی سے منع کرنا۔‘‘ (۴) اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں  نے یہ فرمان مصطفیٰ سن رکھا تھا کہ ’’ابن آدم کا ہر کلام اس کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے سوائے تین کے: (۱)…نیکی کی دعوت دینا (۲)…برائی سے منع کرنا اور (۳)…ذِکْرُاللّٰہ کرنا۔‘‘  (۵)
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قرآن مجید میں  ارشاد فرماتا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۸۔ 
2…المرجع السابق، ص۲۲۹،بتغیرٍ۔	
 3…المرجع السابق، ص۲۲۹۔
 4…المرجع السابق، ص۲۲۹۔ 
5…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی حفظ اللسان، الحدیث:۲۴۲۰، ج۴، ص۱۸۵۔ 
	قوت القلوب، الفصل الحادی، والثلاثون:کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۹۔