Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
242 - 1087
نہیں ؟ میں  (اپنے علم سے) نہیں  جانتا کہ تبع لعنتی ہے یا نہیں ؟ اور میں  (اپنے علم سے) نہیں  جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں ؟۔‘‘ (۱) اور جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زمین کے سب سے بہتر اور بدتر حصے کے بارے میں  پوچھا گیا تو فرمایا: ’’میں  (اپنے علم سے) نہیں  جانتا۔‘‘ یہاں  تک کہ حضرت سیِّدُنا جبرائیلعَلَـیْہِ السَّلَام حاضرخدمت ہوئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے پوچھا انہوں  نے عرض کی: ’’میں  نہیں  جانتا۔‘‘ یہاں  تک کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبر دی کہ زمین کا بہترین حصہ مساجد اور بدترین حصہ بازار ہیں ۔‘‘  (۲)
	حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے دس مسائل پوچھے جاتے تو آپ ایک کا جواب دیتے اور نوکے بارے میں  خاموشی اختیار فرماتے۔ (۳)
	حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانوکا جواب دیتے اور ایک کے بارے میں  سکوت فرماتے۔ (۴)
	نیز ایسے فقہا بھی ہیں  جواَ دْرِی (یعنی میں  جانتا ہوں ) سے زیادہ لَا اَ دْرِی (یعنی میں  نہیں  جانتا) کہا کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری، حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس، حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل، حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض اور حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث حافی رَحْمَۃُاللّٰہِ تعالی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی انہی میں  سے ہیں ۔
	حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی لیلیٰرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کہتے ہیں : ’’ میں  نے اس مسجد میں  120صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو پایا جب ان میں  سے کوئی کسی سے حدیث یا مسئلہ پوچھتا تو وہ پسند کرتے کہ ان کا بھائی  اس میں  کفایت کرے۔‘‘ (۵) دوسری روایت کے الفاظ یوں  ہیں  کہ ’’جب ان میں  سے کسی کے سامنے کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تو وہ اسے دوسرے کی طرف بھیج دیتے، وہ آگے دوسرے کی طرف یہاں  تک کہ وہ پھر پہلے کے پاس آجاتا۔‘‘  (۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب فی التخییر بین الانبیاء، الحدیث:۴۶۷۴، ج۴، ص۲۸۸۔ 
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب مایلزم العالم اذاسئل عمالایدریہ من وجوہ العلم، الحدیث:۸۸۵۔۸۸۴، ص۳۱۱۔ 
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب مایلزم العالم اذاسئل عمالایدریہ من وجوہ العلم، الحدیث:۸۸۲، ص۳۱۰۔ 
	المستدرک، کتاب العلم، باب خیرالبقاع المساجد وشرالبقاع الاسواق، الحدیث:۳۱۳، ج۱، ص۲۷۹۔ 
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۸۔ 
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۸۔ 
5…المرجع السابق۔			
 6…المرجع السابق۔