بعض علما نے ابدال کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: ان کا کھانا فاقہ (کے وقت)، ان کی نیند غلبے (کے وقت) اور ان کا کلام ضرورت (کے وقت) ہوتا ہے۔(۱) یعنی جب تک ان سے پوچھا نہ جائے وہ خاموش رہتے ہیں اور جب پوچھا جائے اور انہیں کوئی دوسرا جواب دینے والا مل جائے تو بھی بات نہیں کرتے اور جب مجبور ہوں تب جواب دیتے ہیں اور وہ سوال سے پہلے بولنا شروع کردینے کو کلام کی خفیہ شہوت شمار کرتے ہیں ۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک شخص کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو وعظ کررہا تھا۔ دونوں نے فرمایا: ’’یہ کہتا ہے مجھے پہچانو۔‘‘ (۲)
بعض بزرگوں نے فرمایا: ’’عالم تو وہ ہے کہ جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو اسے ایسا لگے جیسے اس کی داڑھ نکالی جا رہی ہے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرمایا کرتے تھے: ’’تم لوگ ہمیں پل بناکر اس سے گزر کر جہنم کی طرف جانا چاہتے ہو۔‘‘ (۴)
حضرت سیِّدُنا ابوحفص نیشاپوریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’عالم وہی ہے کہ جب اس سے سوال کیا جائے تو وہ خوف زدہ ہو کہ بروزِ قیامت اس سے کہا جائے گا کہ تم نے کہاں سے جواب دیا۔‘‘ (۵)
حضرت سیِّدُنا ابراہیم تمیمیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو رونے لگتے اور فرماتے: ’’تمہیں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ملا جو تمہیں میری ضرورت پڑگئی۔‘‘
حضرت سیِّدُنا ابوعالیہ ریاحی، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم اور حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰیدو تین یا چند لوگوں کے سامنے گفتگو کرتے تھے اور جب لوگ زیادہ ہوجاتے تو واپس چلے جاتے تھے۔
زمین کا بہترین اور بدترین حصہ:
معلم کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے نہیں معلوم کہ عزیر نبی تھے یا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الرابع عشر، فی ذکرتقسیم قیام اللیل…الخ، ج۱، ص۷۴۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۶۔
3…المرجع السابق۔
4…المرجع السابق۔
5…المرجع السابق۔