Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
240 - 1087
آدھا علم:
	حضرت سیِّدُنا امام شعبیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’لَا اَ دْرِی (یعنی میں  نہیں  جانتا)، آدھا علم ہے اور معلوم نہ ہونے کی صورت میں  جواب نہ دینے والا اجر وثواب میں  جواب دینے والے سے کم نہیں  کیونکہ لاعلمی کا اعتراف نفس پر بہت گراں  ہے۔‘‘ (۱) نیز صحابۂ کرام اور اسلاف کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی یہی عادت تھی۔ چنانچہ،
	حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے جب کسی معاملے کا شرعی حکم پوچھا جاتا تو فرماتے: ’’اس حاکم کے پاس جاؤ جس نے لوگوں  کے معاملات کا ذمہ اٹھا رکھا ہے، اسے بھی اس کی گردن میں  ڈالو۔‘‘  (۲)
عالم کی ڈھال:
	حضرت سیِّدُناا بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جو لوگوں  کے ہر سوال کا جواب دیتا ہے وہ مجنوں  ہے۔ (۳) اور لَا اَ دْرِی (یعنی میں  نہیں  جانتا) عالم کی ڈھال ہے۔ کیونکہ اگر اس نے غلط مسئلہ بتا دیا تو ہلاکت میں  مبتلا ہوگا ۔  (۴)
عالم کی خاموشی شیطان کی بے ہوشی :
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: شیطان پر اس عالم سے سخت کوئی چیز نہیں  جو بعض علم بیان کرتا ہے اور بعض میں  خاموش رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اس کی طرف دیکھو اس کی خاموشی مجھ پر اس کے بولنے سے زیادہ سخت ہے۔  (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن الدارمی، المقدمۃ، باب فی الذی یفتی الناس فی کل مایستفتی، الحدیث:۱۸۰، ج۱، ص۷۴۔ 
	قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب اعلم وتفضیلہ، المقام الثالث من الیقین، ج۱، ص۲۳۶، باختصارٍ۔ 
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۸۔ 
3…سنن الدارمی، المقدمۃ، باب فی الذی یفتی الناس فی کل مایستفتی،الحدیث:۱۷۱، ج۱، ص۷۳۔ 
	المعجم الکبیر، الحدیث:۸۹۲۳، ج۹، ص۱۸۸۔ 
4…الأمالی فی آثارالصحابۃ لعبد الرزاق الصنعانی، الحدیث:۱۶۲، ص۱۰۴۔ 
	تاریخ دمشق لابن عساکر، الرقم:۷۰۴اسماعیل بن ابان، ج۸، ص۳۶۳، عن مالک بن انس۔ 
5…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم،الحدیث:۵۶۳، ص۱۷۱، بتغرٍ۔ 
	قوت القلوب، الفصل السابع والعشرون،کتاب اساس المریدین، ج۱، ص۱۷۲۔