Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
24 - 1087
70حجابات عبورکرلئے:
	حضرت سیِّدُناعارف کبیرقطب ربانی احمد صیاد یمنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں   کہ میں  نے خواب میں   آسمان کے دروازے کھلے دیکھے۔ آسمان سے فرشتوں   کی ایک جماعت سبز حلے(یعنی جنتی لباس) اور سواری لئے اتری۔ وہ ایک قبر کے سرہانے آکر کھڑے ہوگئے۔اس قبروالے کوباہرنکال کرحلہ پہنایا، سواری پر سوار کیا اورایک ایک کرکے تمام آسمانوں   سے گزرتے گئے یہاں   تک کہ اس شخص نے 70 حجابات کو بھی عبور کرلیا ۔میں  ان حجابات تک توانہیں   دیکھ سکا مگران کی انتہا کہاں   تک تھی یہ نہ جان سکا۔ پس جب ان کے متعلق پوچھا تو بتایا گیا:’’ یہ امام غزالی ہیں  ۔ ‘‘(۱)
 کرامات وکمالات
بعدوصال ایک کرامت:
 	حضرت سیِّدُنا شیخ اکبرمُحْی الدِّین ابن عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی (متوفی۶۳۸ھ)اپنی کتاب ’’رُوْحُ الْقُدُسْ فِیْ مُنَاصَحَۃِ النُّفُس‘‘میں   حضرت سیِّدُناابوعبداللّٰہ ابن زَیْن یابُرِی اِشْبِیْلِیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے حالات لکھتے ہوئے بیان فرماتے ہیں  :آپ کا شمار اولیاء اللّٰہمیں   ہوتا ہے۔ ایک رات حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کے ردمیں   ابوالقاسم بن حمدین کی لکھی ہوئی کتاب پڑھ رہے تھے کہ بینائی چلی گئی۔آپ نے اسی وقت بارگاہِ خداوندی میں   سجدہ ریز ہوکر گریہ وزاری کی اور قسم کھائی کہ آئندہ کبھی بھی اس کتاب کو نہ پڑھوں  گا، اسے اپنے آپ سے دوررکھوں   گا۔اسی وقت بینائی واپس لوٹ آئی۔یہ حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی کرامت ہے جو ان کے انتقال کے بعد حضرت سیِّدُناابوعبداللّٰہ ابْن زَیْن یابُرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے ذریعے ظاہر ہوئی۔(۲)
 گستاخ کاانجام:
	حضرت سیِّدُنا تاج الدین عبدالوہاب بن علی سُبکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی(متوفی۷۷۱ھ) فرماتے ہیں  : ایک فقیہ نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تعریف الاحیاء بفضائل الاحیاء علی ہامش احیاء علوم الدین ، ج۵، ص۳۶۴۔
        طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی، ج۶، ص۲۵۸۔
2…کشف النور عن الاصحاب القبور مع الحدیقۃ الندیہ، ج۲، ص۸۔