امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو لکھا: مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جن سے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دین پر مدد حاصل کروں ۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے جواب میں لکھاکہ دیندار تو آپ کے پاس آنا پسند نہیں کریں گے اور دنیا داروں کو آپ پسند نہیں کریں گے۔ البتہ آپ معزز لوگوں کو اپنے ساتھ رکھیں کیونکہ وہ اپنی عزت وشرافت کو خیانت کے ساتھ میلا ہونے سے بچاتے ہیں ۔‘‘ (۱)
یہ ہے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیزعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز کی سیرت جو اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے۔جب دینداروں کے لئے ان سے بھی دور رہنا شرط ہے تو پھر ان کے علاوہ کسی اور کی طلب اور اس کے ساتھ رہنا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔ اسلاف علمائے کرام مثلاً حضرت سیِّدُنا حسن بصری، حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری، حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک، حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم، حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن اہلِ مکہ وشام وغیرہ کے علمائے دنیا کو اس لئے عیب لگاتے ہیں کہ وہ دنیا کی طرف مائل ہوتے یا حکمرانوں سے میل جول رکھتے تھے۔
{6}…علمائے آخرت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ایسا عالم فتویٰ دینے میں جلدی نہ کرے بلکہ توقف کرے اور جب تک ہوسکے اپنے آپ کو فتویٰ دینے سے بچائے۔ نیز اگر اس سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نصِ قرآنی یا نصِ حدیث یا اجماع یا قیاسِ جلی کی دلیل سے یقینی طور پر جانتا ہے تو اس کے بارے میں فتویٰ دے اور اگر ایسی بات پوچھی جائے جس میں اسے شک ہے تو کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ اگر ایسا مسئلہ دریافت کیا جائے جسے وہ اجتہاد واندازے سے سمجھ سکتا ہے تو بھی احتیاط کرے، اپنے آپ کو بچائے اور اگر کوئی دوسرا بتانے والا ہو تو اس کی طرف پھیر دے، اسی میں بچت ہے کیونکہ اجتہاد کا خطرہ سر لینا بڑی بات ہے۔
حدیث ِ مبارکہ میں ہے کہ علم تین ہیں : ’’قرآنِ پاک، سنت قائمہ اور لَا اَ دْرِی (یعنی میں نہیں جانتا)۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ ، ج۱، ص۲۳۳۔
2…المعجم الاوسط، الحدیث:۱۰۰۱، ج۱، ص۲۸۴۔
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، کتاب العلم وتفضیلہ، المقام الثالث من الیقین، ج۱، ص۲۳۶۔