میں اس میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوں گا۔‘‘ بیٹوں نے عرض کی: ’’ابا جان! اس طرح تو ہم فقر وافلاس کی حالت میں ہلاک ہو جائیں گے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اے میرے بیٹو! میں ایمان کی حالت میں غریب وکمزور ہوکر مرجاؤں یہ مجھے حالت منافقت میں موٹا ہوکر مرنے سے زیادہ پسند ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ اپنے بیٹوں پر غالب آ گئے کیونکہ انہو ں نے جان لیا کہ قبر کی مٹی گوشت اور موٹاپے کو توفنا کردیتی ہے مگر ایمان محفوظ رہتا ہے۔‘‘ (۱)
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حاکم کے پاس جانے والا نفاق سے ہرگز نہیں بچ سکتا اور نفاق ایمان کی ضد ہے۔
حضرت سیِّدُنا جندب بن جنادہ ابوذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سلمہ بن عمرو بن اکوع اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اے سلمہ! بادشاہوں کے دروازوں پر نہ جایا کرو کیونکہ تم ان کی دنیا سے اس وقت تک کچھ نہیں لے سکتے جب تک وہ تمہارے دین میں سے اس سے افضل نہ لے لیں ۔‘‘ (۲)
یہ علما کے لئے بہت بڑا فتنہ اور شیطان کے لئے ان پر غالب آنے کا زبردست ذریعہ ہے بالخصوص جن کا انداز مقبول اور کلام شیریں ہو کیونکہ شیطان ان کے دل میں یہ بات ڈالتا رہتا ہے کہ تمہارے ان کے پاس جانے اور انہیں وعظ کرنے سے وہ ظلم سے باز رہیں گے اور اسلامی احکام جاری کریں گے حتی کہ وہ سمجھتا ہے کہ ان کے پاس جانا بھی دینی کام ہے پھرجب وہ ان کے پاس جاتا ہے تو جلد ہی اس کے کلام میں نرمی آجاتی ہے، وہ چاپلوسی کرتا اور بادشاہ کی تعریف میں مشغول ہوکر اس میں مبالغہ کرتا ہے، اس میں دین کی بربادی ہے۔
کہاجاتا تھا کہ ’’علما جب علم حاصل کرتے ہیں تو عمل میں لگ جاتے ہیں ، جب عمل کرتے ہیں تو مصروف ہو جاتے ہیں ،جب مصروف ہوتے ہیں تو گمنام ہوجاتے ہیں ، گمنام ہوتے ہیں تو انہیں طلب کیا جاتا ہے اور جب انہیں طلب کیا جائے تو بھاگ جاتے ہیں ۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب العزلۃ والانفراد،الحدیث:۲۰۲، ج۶، ص۵۴۴۔
2…المصنف لابن ابی شیبیۃ، کتاب الفتن، ماذکر فی عثمان،الحدیث:۷۹، ج۸، ص۶۹۸۔
3…المجالسۃ وجواھرالعلم، الحدیث:۳۵۳، ج۱، ص۱۸۱۔