Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
237 - 1087
علمائے بنی اسرائیل سے زیادہ برے:
	حضرت سیِّدُناسمنون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’وہ عالم کتنا برا ہے کہ اس کے پاس کوئی جائے تو اسے نہ پائے اور جب اس کے بارے میں  پوچھا جائے تو بتایا جائے کہ وہ حاکم کے پاس ہے۔‘‘  (۱)
	مزیدفرماتے ہیں : ’’میں  یہ کہتے ہوئے سنا کرتا تھاکہ جب تم ایسے عالم کو دیکھو جو دنیا سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے دین کے معاملے میں  مشکوک جانوحتی کہ مجھے اس کا تجربہ ہوگیا کہ میں  جب کبھی بھی حاکم کے پاس گیا اور وہاں  سے نکلنے کے بعد اپنے نفس کا محاسبہ کیا تو میں  نے اس میں  بہت دوری پائی حالانکہ میں  جس سختی اور درشتی سے اس کے ساتھ پیش آتا ہوں  اور اس کی خواہش کی مخالفت کرتا ہوں  وہ تمہارے سامنے ہے اور میں  پسند کرتا ہوں  کہ حاکم کے پاس جانے سے بچ جاؤں  حالانکہ نہ میں  اس سے کوئی چیز لیتا ہوں  اور نہ پانی کا کوئی گھونٹ پیتا ہوں ۔‘‘
	پھر فرمایا: ’’ہمارے زمانے کے علما بنی اسرائیل کے علما سے زیادہ برے ہیں کہ حاکم کو رخصتیں  اور وہ باتیں  بتاتے ہیں  جو ان کی خواہش کے موافق ہوں  اور اگر وہ انہیں  ایسی باتیں  بتائیں  جو ان کے خلاف ہوں  اور ان میں  ان کی نجات ہو تو حکمران انہیں  بوجھ جانیں  اور ان کا اپنے پاس آنا ناپسند کریں  حالانکہ یہ بات ان کے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں  ان کے لئے نجات کا ذریعہ ہے۔‘‘
حکمرانوں  کی صحبت منافقت کا باعث ہے:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں  میں  ایک صاحب تھے جو اسلام میں  سبقت رکھتے تھے اور صحابی ٔرسول تھے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : اس سے حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مراد ہیں ۔ فرمایا: وہ حکمرانوں  کے پاس نہیں  جاتے تھے اور ان سے دور رہتے تھے۔ ان کے بیٹوں  نے ان سے عرض کی: ’’یہ لوگ جو صحابیت اور اسلام میں  مقدم ہونے کے اعتبار سے آپ کی مثل نہیں  ہیں  وہ حکمرانوں  کے پاس جاتے ہیں  اگر آپ بھی جائیں  تو کیا حرج ہے؟‘‘ انہوں  نے فرمایا: ’’اے میرے بیٹو! کیا میں  اس مردار دنیا کے پاس جاؤں  جسے لوگوں  نے گھیر رکھا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر مجھ سے ہوسکا تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ذم العالم علی مداخلۃ السلطان الظالم، تحت الحدیث:۷۱۲، ص۲۳۳۔