کسی نے حضرت سیِّدُنا اعمشرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے عرض کی: ’’حضور! آپ نے اپنے کثیر شاگردوں کے ذریعے علم کو زندہ کردیا ہے۔‘‘ فرمایا: ’’جلدی نہ کرو، ان میں سے ایک تہائی تو علم کے فوائد حاصل ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں ، ایک تہائی حکمرانوں کے دروازوں سے چمٹ جاتے ہیں ، وہ لوگوں میں بدترین ہیں اور باقی ایک تہائی میں سے کم ہی ہیں جو فلاح پاتے ہیں ۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیبرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب تم عالم کو امرا کے پاس آتے جاتے دیکھو تو اس سے احتراز کرو کیونکہ وہ چور ہے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا امام اوزاعیرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک اس عالم سے زیادہ ناپسند کوئی چیز نہیں جو حکام کے کسی کارندے سے ملاقات کرتا ہے۔‘‘ (۳)
بدترین علما اور بہترین امرا:
حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بدترین علما وہ ہیں جو امرا کے پاس جاتے ہیں اور بہترین امرا وہ ہیں جو علما کے پاس جاتے ہیں ۔‘‘ (۴)
آگ کے سمندر میں غوطے لگانے والا:
حضرت سیِّدُنا مکحول دمشقیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’جس نے قرآن سیکھا اور دین کا علم حاصل کیا پھر حاکم کا مصاحب بن گیا، اس کی خوشامد کی، اس کے مال کی طمع رکھی تو وہ اپنے گناہوں کی تعداد کے برابر جہنم کی آگ کے سمندر میں غوطے لگائے گا۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ذم العالم علی مداخلۃ السلطان الظالم، ص۲۳۲۔
2…الاداب الشرعیۃ الکبری للمقدسی، فصل انقباض العلماء المتقین…الخ، ج۴، ص۱۷۴۔
فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث:۱۰۸۳، ج۱، صا۱۶۴، بتغیرٍ،عن ابی ھریرۃ۔
3…تفسیر النسفی، سورۃ ھود، تحت الایۃ:۱۱۳، ص۵۱۵۔
الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم:۲۷۶ بکیر بن شہاب، ج۲، ص۲۰۴، عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ۔
4…طبقات الشافیۃ الکبری، الطبقۃ الخامسۃ، من اصحاب الامام المطلبی، ج۶، ص۲۹۰۔
5…فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث ۱۱۴۱، ج ۱، ص ۱۷۱، بتغیرٍ،عن عباد بن جبل۔