ایک روایت میں ہے کہ ’’عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جن میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری بھی۔ پس جس نے (ان کا) انکار کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا لیکن جو (ان سے) راضی رہا اور پیروی کی اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنی رحمت سے دور کردے گا۔‘‘ عرض کی گئی: ’’کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں ؟‘‘ارشاد فرمایا: ’’نہیں ، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں ۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’جہنم میں ایک وادی ہے جس میں صرف وہ علما رہیں گے جو بادشاہوں کی ملاقات کو جاتے ہیں ۔‘‘ (۲)
فتنوں کی جگہیں :
حضرت سیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’فتنے کی جگہوں سے بچو۔‘‘ کسی نے پوچھا: ’’وہ کون سی جگہیں ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’حکمرانوں کے دروازے، تم میں سے کوئی شخص حاکم کے پاس جاتا ہے تو اس کے جھوٹ کو سچ بتاتا ہے اور اس کی شان میں وہ باتیں کہتا ہے جو اس میں نہیں ہوتیں ۔‘‘ (۳)
علما بندوں پر رسولوں کے امین ہیں :
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبیوں کے سلطان، رحمت عالمیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’علما اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں پر رسولوں کے امین ہوتے ہیں جب تک وہ حکمرانوں سے میل جول نہ رکھیں اور جب وہ ایسا کریں گے تو وہ رسولوں کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہوں گے ۔پس تم ان (کے شر) سے ڈرو اور ان سے علیحدہ رہو۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…حضرت علی (کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)کو خلفائے راشدین کا مصاحب بننااور حضرت امام ابو یوسف(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کا سلطان ہارون رشید کا قاضی القضاہ بننا گناہ نہ تھا ثواب تھا،امام ابویوسف کی یہ قضاء حنفی مذہب کی اشاعت کا ذریعہ بنی۔
1…سنن الترمذی،کتاب الفتن،باب۷۸، الحدیث:۲۲۷۲، ج۴، ص۱۱۷، دون قولہ:ابعد اللّٰہ۔
جامع بیان العلم وفضلہ، باب ذم العالم علی مداحلۃ السلطان الظالم، الحدیث:۷۰۲، ص۲۲۶۔
2…تفسیر النسفی، سورۃ ھود، تحت الآیۃ:۱۱۳، ص۵۱۵۔
3… المصنف لعبدالرزاق، کتاب الجامع، باب ابواب السلطان، الحدیث:۲۰۸۰۹، ج۱۰، ص۲۸۰۔
4…جمع الجوامع، قسم الاقوال، حرف العین، الحدیث:۱۴۵۲۹، ج۵، ص۲۰۱۔
تفسیرروح البیان، سورۃ ھود، تحت الآیۃ:۱۱۳، ج۴، ص۱۹۶۔