Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
234 - 1087
{5}…علمائے آخرت کی ایک علامت یہ ہے کہ عالم حکمرانوں  سے دور رہے، جب تک ان سے بھاگنے کی راہ ملے ہرگز ان کے پاس نہ جائے، بلکہ ان کی ملاقات سے بھی احتراز کرے اگرچہ وہ اس کے پاس آئیں  کیونکہ دنیا میٹھی اور تر وتازہ ہے اور اس کی لگام حکمرانوں  کے ہاتھ میں  ہے۔ ان سے ملنے والا ان کی رضا وخوشنودی پانے اور ان کے دل اپنی طرف مائل کرنے کے لئے تکلُّفات سے نہیں بچ سکتا باوجود یہ کہ وہ ظالم ہوتے ہیں ۔ ہر دیندار کے لئے ضروری ہے کہ ان پر اعتراض کرے، ان کے مظالم اور برے افعال ظاہر کرکے ان کے دل تنگ کرے کیونکہ ان کے پاس جانے والا یا تو ان کی زیب وزینت کو دیکھ کر خودپر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے احسانات کو حقیر سمجھتا ہے یا ان پر اعتراض کرنے سے خاموش رہ کر منافقت اختیار کرتا ہے یا ان کی خوشنودی کی خاطر اپنی گفتگو میں  تکلف کرتا اور ان کی حالت کو اچھا بتاتا ہے حالانکہ یہ کھلا جھوٹ ہے یا ان کی دنیا سے کچھ مل جانے کی طمع کرتا ہے اور یہ حرام ہے۔ حلال وحرام کے بیان میں  اس بات کا ذکر آئے گا کہ حکمرانوں  کے اموال سے کون کون سے عطیات و انعامات لینا جائز ہیں  اور کون سے ناجائز؟ مختصر یہ کہ ان سے میل جول کئی برائیوں  کی چابی ہے اور علمائے آخرت کا راستہ احتیاط ہے۔
	آقائے دوجہاں ، محبوبِ رحمنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو بن باسی ہوا(دیہات میں  رہائش اختیار کی) وہ سخت دل ہوگیا۔ جو شکار کے پیچھے رہا وہ غافل ہوگیا اور جو بادشاہ کے پاس پہنچاوہ فتنہ میں  پڑا۔‘‘  (۱) (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المسندللام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث:۹۶۸۹، ج۳، ص۴۴۳۔ 
2…مفسر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مراٰۃ المناجیح، ج5،ص360 پر اس کے تحت فرماتے ہیں : ’’دیہات کے باشندے اکثر سخت دل ہوتے ہیں رب تعالیٰ فرماتا ہے اَلۡاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوۡا (پ۱۱، التوبۃ:۹۷) کیونکہ انہیں علم کی روشنی علما کی صحبت نہیں نصیب ہوتی، لہٰذا خود عالم دین جو دیہات میں رہیں ، اور وہ دیہات والے جو علماء سے تعلق رکھیں اور شہر میں آتے جاتے رہیں وہ اس حکم سے خارج ہیں (اور)جو شکار کا شغل اپنا وطیرہ بنالے کہ محض شوقیہ شکار کھیلتا رہے وہ اللّٰہ کے ذکر نماز و جماعت جمعہ ، رقت قلب سے محروم رہتا ہے حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم  نے کبھی شکار نہ کیا (اشعہ) بعض صحابہ نے شکار کیا ہے مگر شکار کرنا اور ہے اور شکار کا مشغلہ وہ بھی محض شوقیہ کچھ اور شکار کا ذکر تو قرآن کریم میں ہے یہاں مشغلہ شوقیہ کا ذکر ہے لہٰذا یہ حدیث حکم قرآن کے خلاف نہیں (اور)جو عزت و دولت کمانے کے لیے ظالم بادشاہ کا درباری اور حاضر باش بنا وہ اپنا دین یا دنیا تباہ کرلے گا کیونکہ اگر وہ اس کے ظلم کی حمایت کرے گا تو اپنا دین برباد کرلے گا،اور اگر اس کی مخالفت کرے گا تو اپنی دنیا برباد کرلے گا، لہٰذا جو کوئی عادل بادشاہ کا مصاحب بنے اس کے عدل کی حمایت کرنے تک میں دین کا رواج دینے کو اور اُسے اچھے مشورے دے تو وہ اعلیٰ درجے کا مجاہد ہے، یوں ہی ظالم بادشاہ کی اصلاح کے لیے اُس کے ساتھ رہے تو وہ غازی ہے مگر ایسا بہت مشکل ہے لہٰذا (امیرالمؤمنین)…