Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
233 - 1087
 اختیار کریں ۔ میں  نے آپ کی طرف نصیحت بھرا خط لکھا ہے جس کا علم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو نہیں ۔ وَالسَّلَام 
سیِّدُنا امام مالکعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کا جواب:
	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے جواب میں  لکھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّم۔ مالک بن انس کی طرف سے یحییٰ بن یزید کو  اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم:
	 آپ کا خط موصول ہوا، اس میں  میرے لئے نصیحت، شفقت اور ادَب ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو تقویٰ پر استقامت عطا فرمائے اور اس نصیحت کا بہترین صلہ دے۔ میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے توفیق کا سوال کرتا ہوں کہ نیکی کرنے کی قوت اور گناہوں  سے بچنے کی طاقت عظَمت وبلندی والے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ہی کی مدد سے ہے۔ آپ نے میری جن باتوں  کا تذکرہ کیا کہ میں  باریک کپڑے پہنتا، چپاتی کھاتا، دربان بٹھاتا اور نرم نشست پر بیٹھتا ہوں  یہ سب میں  کرتا ہوں  اور میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگتا ہوں ۔ بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ(پ۸،الاعراف:۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ! کس نے حرام کی اللّٰہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں  کے لئے نکالی اور پاک رزق۔
	بے شک میں  جانتا ہوں  کہ اسے ترک کرنا اختیار کرنے سے بہتر ہے۔ آپ ہمیں  خط لکھنا نہ چھوڑیئے گا ہم بھی آپ کو خط لکھتے رہیں  گے۔ وَالسَّلَام 
	حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کا انصاف تو دیکھئے کہ اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اسے ترک کرنا اختیار کرنے سے بہتر ہے اور اس کے جواز کا فتویٰ بھی دیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ دونوں  باتوں  میں  سچے تھے۔ ایسے عَظِیْمُ الْمَنْصَب شخص نے اس طرح کی نصیحت قبول کرنے اور اعتراف کرنے میں  انصاف سے کام لیا اور اپنے نفس کو جائز کاموں  کی حدود جاننے پر بھی پکا کرلیا تاکہ وہ انہیں  چاپلوسی، دکھلاوے اور دوسری ناپسندیدہ باتوں  کی طرف تجاوز کی راہ پر نہ لے جائے جبکہ کوئی دوسرا اس طرح نہیں  کرسکتا۔ پس مباح چیزوں  سے لطف اندوز ہونے کی طرف مائل ہونے میں بڑا خطرہ ہے اور یہ چیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف وخشیت سے دور ہے جبکہ ربانی علما کی خاصیت خشیت الٰہی ہے اور خشیت کی خاصیت ہے کہ خطرے واندیشے والی جگہوں سے دور رہا جائے۔