Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
232 - 1087
	لہٰذا بتاؤ! تم نے کس کی پیروی کی،رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یا فرعون کی جس نے سب سے پہلے چونے اور اینٹ کا پکا گھر بنایا۔ پھر لوگ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔
	یہ حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کی حکایت ہے۔ نیز خستہ حالی اور زیب وزینت کو ترک کرنے پر مشتمل اسلاف کی مبارک زندگیوں  کے کچھ گوشوں  کا بیان ان کے مقام پر آئے گا جو علمائے آخرت کی اس نشانی کی تائید کرتا ہے۔
	اس میں  تحقیق یہ ہے کہ مباح چیزوں  کے ساتھ زینت اختیار کرنا حرام نہیں  لیکن اس میں  زیادہ دلچسپی اس سے مانوس ہونے کا سبب ہے جس کی وجہ سے اسے چھوڑنا دشوار ہوجاتا ہے۔ پھر یہ کہ مسلسل زینت اختیار کئے رہنے کے لئے اسباب کا حصول ضروری ہے اور عام طور پر ان کے حصول کے لئے کئی گناہوں  کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً چاپلوسی، جائز وناجائز ہر کام میں  لوگوں  کی رعایت، دکھلاوا اور دیگر کئی ممنوع کام کرنے پڑتے ہیں  اس لئے احتیاط اسی میں  ہے کہ زیب وزینت سے اجتناب کیا جائے کیونکہ جو دنیا میں  مشغول ہوجاتا ہے وہ اس سے بالکل محفوظ نہیں  رہ سکتا اور اگر اس میں  زیادہ مشغولیت کے باوجود بھی اس سے بچنا ممکن ہوتا تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ترکِ دنیا میں  اتنا مبالغہ نہ فرماتے حتی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نقش ونگار والی قمیص اُتار دی نیز دورانِ خطبہ سونے کی انگوٹھی اُتار دی اس قسم کے اور بھی واقعات ہیں  جن کا بیان آگے آئے گا۔
سیِّدُنا یحییٰ بن یزیدعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد کا خط:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یزید نوفلیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو خط لکھا(مضمون کچھ یوں  تھا): بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی رَسُوْلِہٖ مُحَمَّدٍ فِی الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ، یحییٰ بن یزید بن عبدالملک کی طرف سے مالک بن انس کے نام خط:
	اَمَّا بَعْدُ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ باریک کپڑے پہنتے، چپاتی کھاتے، نرم نشست پر بیٹھتے اور اپنے دروازے پر دربان بٹھاتے ہیں  حالانکہ آپ علم کی مجلس قائم کرتے ہیں ۔ لوگ سفر کرکے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ آپ کو اپناپیشوا مانتے اور آپ کی بات کو پسند کرتے ہیں ۔ لہٰذا اے مالک! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈریں  اور عاجزی