Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
231 - 1087
دنیاسے بچنے کاطریقہ:
	جب یہ بات حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کو پہنچی تو انہوں  نے فرمایا: ’’ واہ! کتنے سمجھدار ہیں ۔ ہمیں بھی ان کے پاس لے چلو۔‘‘ ان کے ہاں  پہنچ کر پوچھا: ’’ اے ابوعبدالرحمن عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن! دنیا سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے جواب دیا:’’ اے ابوعبداللّٰہ! تمہیں  چارخصلتیں  حاصل ہو جائیں  تو تم دنیا سے محفوظ رہ سکتے ہو:(۱)…لوگوں  کی جہالت کو معاف کردو (۲)…اپنی جہالت کو ان سے روک لو (۳)…اپنی چیز ان پر خرچ کرو اور (۴)…ان کی چیزوں  سے مایوس ہوجاؤ۔ جب ایسے ہوجاؤ گے، تو دنیا سے بچ جاؤ گے۔‘‘
یہ توفرعون کاشہرہے:
	پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سوئے مدینہ چل دئیے۔ وہاں پہنچے تو اہلِ مدینہ نے پرجوش استقبال کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے پوچھا: ’’ اے لوگو! یہ کون سا شہر ہے؟‘‘ لوگوں  نے عرض کی: یہ مَدِیْنَۃُ الرَّسُوْل ہے۔‘‘ پوچھا: ’’ تو رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا محل کہاں  ہے، تاکہ میں  اس میں  نماز پڑھوں ؟‘‘ لوگوں  نے عرض کی: ’’حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا محل نہیں  تھا بلکہ ایک گھر تھا جو زمین سے ملا ہوا تھا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ تو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے محلات کہاں  ہیں ؟‘‘ عرض کی: ’’ان کے محلات نہیں  تھے وہ تو زمین سے ملے ہوئے گھروں  میں  رہتے تھے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: ’’ یہ تو فرعون کا شہر ہے؟‘‘ لوگوں  نے آپ کو پکڑ کر حاکم وقت کے سامنے پیش کردیا اور کہا کہ ’’یہ عجمی شخص کہتا ہے کہ یہ فرعون کا شہر ہے۔‘‘ حاکم نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے وجہ پوچھی توآپ نے جواب دیا: ’’ مجھ پر جلدی نہ کرو، میں  ایک عجمی مسافر شخص ہوں ، شہر میں  داخل ہوا تو میں  نے پوچھا: ’’ یہ کون سا شہر ہے۔‘‘ تو لوگوں  نے کہا: ’’ یہ مَدِیْنَۃُ الرَّسُوْل ہے۔ ‘‘پھر پوچھا: ’’ان کا محل کہاں  ہے۔‘‘ یوں  آخر تک پورا واقعہ بیان کرکے کہا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیۡ رَسُوۡلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (پ۲۱،الاحزاب:۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تمہیں  رسول اللّٰہ کی پیروی بہتر ہے۔