Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
230 - 1087
 کہہ کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہوہاں  سے تشریف لے گئے اور ابن مقاتل کا مرض اور بڑھ گیا۔ وہاں  کے لوگوں  کو ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا پتا چلا تو انہوں  نے حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے عرض کی: ’’قزوین میں  طنافسی ان سے بڑا مالدار ہے۔‘‘
نصیحت کا انوکھا انداز:
	حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم قصداً وہاں  چلے گئے۔ طنافسی کے پاس پہنچے تو کہا: ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے! میں  ایک عجمی شخص ہوں ، چاہتا ہوں  کہ تم مجھے میرے دین کی ابتدا اور نماز کی چابی سکھاؤ یعنی میں  نماز کے لئے وضو کس طرح کروں ؟‘‘ طنافسی نے کہا: ’’ اچھا، بہت بہتر۔‘‘ پھر غلام سے برتن میں  پانی لانے کو کہا، پانی پیش کیا گیا تو طنافسی نے بیٹھ کر وضو کیا اور تین تین مرتبہ اعضاء دھوئے پھر کہا: ’’اس طرح وضو کیا کرو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے کہا: ’’ تم اپنی جگہ ٹھہرو تاکہ میں  تمہارے سامنے وضو کروں  اور میرا مقصد پورا ہوجائے۔‘‘ وہ ٹھہر گیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے بیٹھ کر وضو شروع کیا اور اپنے بازوؤں  کو چار، چار مرتبہ دھویا۔ طنافسی نے کہا: ’’اے شخص! تم نے اسراف کیا ہے۔‘‘ پوچھا: ’’ کس چیز میں ؟‘‘ کہا: ’’ تم نے اپنے بازو چارمرتبہ دھوئے ہیں ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے کہا: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم! میں  پانی کے ایک چلو میں  اسراف کا مرتکب ہوگیا اور تم نے یہ جو اتنا کچھ جمع کر رکھا ہے، یہ اسراف نہیں ؟‘‘ طنافسی سمجھ گیا کہ ان کا مقصد سیکھنا نہیں  بلکہ یہی بتانا تھا۔ پھر وہ اپنے گھر میں  داخل ہوگیا اور 40دن تک لوگوں  کے سامنے نہ آیا۔
تین خصلتیں :
	جب حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم بغداد تشریف لائے تو وہاں  کے لوگ آپ کے پاس جمع ہوکر کہنے لگے: ’’ اے ابوعبدالرحمن عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن! آپ ایک عجمی شخص ہیں  اور رک رک کر بات کرتے ہیں  لیکن اس کے باوجود جس سے بھی بات کرتے ہیں  اسے لاجواب کر دیتے ہیں ۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ میری تین خصلتیں  ہیں  جنہیں  میں  اپنے مقابل پر ظاہر کرتا ہوں : (۱)…جب میرا مقابل درست ہو تو میں  خوش ہوتا ہوں ۔ (۲)…غلطی کرے تو غمگین ہوتا ہوں (۳)…اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھتا ہوں کہ اسے اپنی جہالت دکھاؤں ۔‘‘