Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
229 - 1087
’’ عالم کا دروازہ اور اس طرح کا؟‘‘اجازت ملی، اندر گئے تو دیکھا کہ ایک وسیع وعریض اور عمدہ و خوبصورت گھر ہے۔ اس میں  پردے لٹک رہے ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سوچ میں  پڑگئے۔ پھر قاضی کی مجلس میں  پہنچے تو دیکھا کہ قاضی ایک نرم بچھونے پر آرام فرما ہے اور سر کی جانب ایک غلام ہاتھ میں  پنکھا لئے موجود ہے۔ زیارت کی غرض سے آنے والے تاجر نے سر کے پاس بیٹھ کر حالت دریافت کی جبکہ حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کھڑے رہے۔ ابن مقاتل نے آپ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا لیکن آپ نہ بیٹھے۔ اس نے کہا: ’’شاید آپ کو کوئی حاجت ہے؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ ہاں ! ‘‘ پوچھا: ’’ کیا حاجت ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں ۔‘‘ کہا: ’’پوچھئے۔‘‘ فرمایا: ’’پہلے سیدھے ہوکر بیٹھ جائیں  پھر پوچھوں  گا۔‘‘
	چنانچہ، قاضی سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے پوچھا: ’’تم نے علم کس سے حاصل کیا ہے؟‘‘ جواب دیا: ’’ معتبر علما سے ۔‘‘ پوچھا: ’’ انہوں  نے کس سے سیکھا؟‘‘ جواب دیا: ’’صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے۔‘‘ پوچھا: ’’انہوں  نے کس سے سیکھا؟‘‘ کہا: ’’ رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے۔‘‘ پوچھا: ’’حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس سے؟‘‘ جواب دیا: ’’ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام کے واسطے سے خدائیے بزرگ وبرتر سے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: ’’جو علم حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام نے خالق کائنات عَزَّوَجَلَّ سے لے کرمعلم کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچایا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ کو عطا فرمایا، صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے معتبر علما کو بتایا اور معتبر علما نے تمہیں سکھایا کیا تم نے اس میں  یہ سنا ہے کہ جس کے گھر کی بلندی اور وسعت زیادہ ہوگی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں  اس کا مرتبہ زیادہ ہوگا؟‘‘ اس نے کہا: ’’ نہیں میں نے ایسا نہیں  سنا ۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’پھر کیسا سنا ہے؟‘‘ جواب دیا: ’’میں نے سنا ہے کہ جو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت میں  رغبت رکھتے ہوئے مسکینوں  سے محبت اور آخرت کی تیاری کرے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں  اس کا مرتبہ بلند ہوگا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے پوچھا: ’’پھر تم نے کس کی پیروی کی، محبوبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی یا فرعون اور نمرود کی جنہوں  نے سب سے پہلے چونے اور اینٹ سے پکا مکان بنایا۔ اے علمائے سو! تم جیسوں  کو دیکھ کر دنیا سے رغبت رکھنے والا جاہل حریص کہتا ہے کہ جب عالم کی یہ حالت ہے تو میں  ا س سے برا کیوں  نہ بنوں ۔ ‘‘یہ