چاروں (آسمانی) کتابوں پر عامل ہوجائے گا۔‘‘
الغرض! علمائے آخرت ہی اس طرح کا علم حاصل کرنے اور اسے سمجھنے کا اہتمام کرتے ہیں جبکہ علمائے دنیا تو اس چیز میں مشغول ہوتے ہیں جس سے مال وجاہ کا حصول آسان ہو اور ان جیسے علوم کو چھوڑ دیتے ہیں جن کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا زمانہ پایا ہے وہ ایک دوسرے سے تقویٰ کے علاوہ کچھ نہیں سیکھتے تھے اور اب لوگ علم کلام کے سوا کچھ نہیں سیکھتے۔‘‘ (۱)
{4}…علمائے آخرت کی ایک علامت یہ ہے کہ ایسا عالم کھانے پینے کی اشیا میں آسودگی، لباس میں زیبائش، گھریلو سامان اور رہائش کے مکان میں خوبصورتی کی طرف مائل نہ ہو بلکہ ان تمام چیزوں میں میانہ روی اپنائے، اس میں سلف صالحین کی مشابہت اختیار کرے اور کم سے کم پر قناعت کا ذہن رکھے۔ پس جب اس کی توجہ کمی کی جانب بڑھے گی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف اس کا قرب بھی زیادہ ہوگا اور علمائے آخرت میں اس کا مقام بلند ہوگا۔
سیِّدُنا حاتمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم کا انداز نصیحت:
حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے شاگرد حضرت سیِّدُنا ابوعبداللّٰہ خواص عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق سے منقول یہ حکایت اس کی گواہ ہے۔ فرماتے ہیں : میں حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے ساتھ (خراسان کے بڑے شہر) رے کی طرف گیا۔ ہمارے ساتھ 320آدمی تھے۔ ہم حج کا ارادہ رکھتے تھے۔ سب نے اُونی کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔ کسی کے پاس بھی توشہ دان اور کھانا نہیں تھا۔’’ رے ‘‘مقام پرپہنچ کر ہم ایک تاجر کے پاس گئے جو تنگ دست تھا لیکن مسکینوں کو دوست رکھتا تھا۔ اس رات اس نے ہماری ضیافت کی۔ اگلے دن اس نے حضرت سیِّدُناحاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے کہا کہ ’’ اگر آپ کو کوئی حاجت ہو تو فرمائیے کیونکہ ایک فقیہ بیمار ہیں میں نے ان کی عیادت کو جانا ہے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا:’’ مریض کی عیادت تو ثواب کا کام ہے اور فقیہ کی زیارت کرنا بھی عبادت ہے۔ چلو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔‘‘ وہ بیمار فقیہ رے کا قاضی محمد بن مقاتل رازی تھا۔ جب ہم اس کے دروازے پر پہنچے تو بلند اور خوبصورت محل دیکھ کر حضرت سیِّدُنا حاتم اصمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم متعجب ہوکر فرمانے لگے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ،ج۱، ص۲۳۹۔