(۶)… عرض کی:میں نے لوگوں کو ایک دوسرے پر زیادتی کرتے اور آپس میں لڑتے جھگڑتے دیکھا پھر اس فرمان باری تعالیٰ کی طرف نظر کی:
اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ (پ۲۲، فاطر:۶)
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو۔
تو میں نے صرف شیطان سے دشمنی کی اور اس سے بچنے کی کوشش کی کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے گواہی دی ہے کہ وہ میرا دشمن ہے اس لئے میں نے اس کے علاوہ کسی سے دشمنی نہیں کی۔
(۷)… عرض کی:میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک روٹی کے ٹکڑے کی طلب میں اپنے نفس کو ذلیل کرتا اور اس چیز میں مشغول ہوتا ہے جس میں مشغول ہونا اس کے لئے جائز نہیں پھر میں نے اس آیت مبارَکہ میں غور کیا:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا (پ۱۲، ہود:۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔
تو اس نتیجے پر پہنچا کہ میں بھی ان چلنے والوں میں سے ایک ہوں جن کا رزق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے، پھر میں اس کام میں مشغول ہوگیا جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے مجھ پر لازم ہے اور اسے چھوڑ دیا جو میرے لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے۔
(۸)… عرض کی:میں نے لوگوں کو دیکھا سب مخلوق پر بھروسا کئے ہوئے ہیں ، کوئی اپنی زمین پر، کوئی اپنے کاروبار پر، کوئی اپنے فن پر، کوئی اپنی صحت پر الغرض ہر مخلوق اپنی مثل مخلوق پر توکل کئے ہوئے ہے تو میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کی طرف توجہ کی:
وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ (پ۲۸، الطلاق:۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
لہٰذا میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرلیا اور وہی مجھے کافی ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا شقیق بلخیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اے حاتم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں توفیق دے! بے شک میں نے توریت، انجیل، زبور اور قرآنِ حکیم میں غور و فکر کیا تو بھلائی اور دیانت کی تمام اقسام کو اس طرح پایا کہ وہ تمام انہی آٹھ باتوں کے گرد گھومتی ہیں ۔ جو ان پر عمل کرلے گا وہ