عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾ (پ۳۰،النّٰزعٰت:۴۰،۴۱)
سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔ تو بے شک جنت ہی ٹھکاناہے۔
تو میں نے جان لیا کہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان حق ہے پھر میں خواہش کو دور کرنے کے لئے اپنے نفس کو تیار کرتا رہا یہاں تک کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی فرمانبرداری پر پختہ ہوگیا۔
(۳)… عرض کی:میں نے لوگوں کو غور سے دیکھا تو پتا چلا کہ ہر وہ شخص جس کے پاس کوئی قدر وقیمت والی چیز ہے وہ اسے بلند کرتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے پھر میں نے اس فرمانِ الٰہی میں غور کیا:
مَا عِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہِ بَاقٍ ؕ (پ۱۴،النحل:۹۶)
ترجمۂ کنزالایمان: جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللّٰہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والاہے۔
اب جب بھی میرے پاس کوئی قدر وقیمت والی چیز آتی ہے تو اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف پھیر دیتا ہوں تاکہ محفوظ رہے۔
(۴)… عرض کی:لوگوں کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ ہر ایک کی توجہ مال، حسب ونسب اور شرف کی طرف ہے۔ میں نے ان چیزوں کے بارے میں غور کیا تو ان کی کوئی حیثیت معلوم نہ ہوئی پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں غور کیا:
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ(پ۲۶،الحجرٰت:۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللّٰہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
تو میں نے تقویٰ اختیار کرنے کی کوشش کی تاکہ بارگاہِ الٰہی میں عزت والا ہوجاؤں ۔
(۵)… عرض کی:میں نے حسد کے سبب لوگوں کو ایک دوسرے کو لعن طعن کرتے دیکھا پھر اس آیت مقدسہ میں غور وخوض کیا:
نَحْنُ قَسَمْنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (پ۲۵،الزخرف:۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے ان میں ان کی زیست(زندگی گزارنے)کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا۔
تو میں حسد کو ترک کرکے مخلوق سے الگ ہوگیا اور میں نے جان لیا کہ تقسیم تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے اس لئے میں نے لوگوں سے عداوت ترک کردی۔