کے حق کی ادائیگی میں کیا عمل کیا؟‘‘ عرض کی: ’’جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’کیا تم نے موت کو جانا؟‘‘ عرض کی: ’’جی ہاں !‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اس کے لئے کیا تیاری کی؟‘‘ عرض کی: ’’جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’جاؤ! پہلے اس میں پختہ ہوجاؤ پھر ہمارے پاس آنا ہم تمہیں علم کے غرائب میں سے کچھ سکھادیں گے۔‘‘ (۱)
8انمول ہیرے:
ایک طالب علم کو ایسا ہونا چاہئے جیسا حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے شاگردِ رشید حضرت سیِّدُنا حاتمِ اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے استاذ حضرت سیِّدُنا شقیق بلخیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ان سے پوچھا: ’’تم کتنے عرصے سے میری صحبت میں ہو؟‘‘ عرض کی: ’’33سال سے۔‘‘ پوچھا: ’’اس مدت میں مجھ سے کیا سیکھا؟‘‘ عرض کی: ’’آٹھ باتیں ۔‘‘
حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے افسوس کرتے ہوئے یہ آیت مبارَکہ پڑھیاِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ (پ۲،البقرۃ:۱۵۶)ترجمۂ کنزالایمان: ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔
اور کہا: ’’میری زندگی کا ایک عرصہ تمہارے ساتھ گزر گیا اور تم نے صرف آٹھ باتیں سیکھی ہیں ؟‘‘ حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے عرض کی: ’’ استاذِ محترم! میں نے ان کے علاوہ کچھ نہیں سیکھا اور مجھے جھوٹ بولنا پسند نہیں ۔ ‘‘استاذ صاحب نے فرمایا: ’’وہ آٹھ باتیں بیان کرو کہ میں سنوں ۔‘‘
(۱)… عرض کی:میں نے لوگوں کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ ہر شخص ایک محبوب سے محبت کرتا ہے اور (محبوب کے مرنے پر) اس کے ساتھ قبر تک جاتا ہے پھر اس سے جدا ہوجاتا ہے تو میں نے اچھے اعمال کو اپنا محبوب بنا لیا تاکہ جب میں قبر میں داخل ہوں تو میرا محبوب بھی میرے ساتھ داخل ہو۔
حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا:’’ اے حاتم! بہت اچھا۔‘‘
(۲)… عرض کی:میں نے اس فرمان باری تعالیٰ میں غور وفکر کیا:
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… حلیۃ الاولیاء، مقدمۃ المصنّف، الحدیث:۵۳، ج۱، ص۵۶۔