نزولِ قرآن کامقصد:
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’قرآنِ حکیم اس لئے نازل ہوا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے، تم نے اس کے پڑھنے پڑھانے کو بھی عمل بنا لیا، عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اس کو نیزے کی طرح سیدھا کریں گے وہ تم میں بہتر لوگ نہیں ہوں گے اور جو عالم عمل نہیں کرتا اس مریض کی طرح ہے جو دوائی کی تعریف کرتا ہے اور اس بھوکے کی طرح ہے جو لذیذ کھانوں کی تعریف کرتا ہے لیکن ان کو پاتا نہیں ۔‘‘ (۱)
اس جیسے شخص کے بارے میں ارشادِ خداوندی ہے:
وَلَکُمُ الْوَیۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾ (پ۱۷،الانبیاء:۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہاری خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو۔
نیزحدیث مبارَکہ میں ہے کہ ’’مجھے اپنی امت پر عالم کی لغزش اور منافق کے قرآن میں جھگڑنے کا ڈر ہے۔‘‘ (۲)
{3}…علمائے آخرت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ایسے عالم کا مقصد آخرت میں نفع دینے والے اور اطاعت میں رغبت دلانے والے علم کا حصول ہو، ان علوم سے بچے جن کا نفع کم ، جھگڑا اور بحث ومباحثہ زیادہ ہو پس اس شخص کی مثال جو اعمال کے علم سے غافل ہوکر جدال(جھگڑوں وغیرہ ) میں مشغول ہوجائے اس مریض کی سی ہے جو کئی بیماریوں میں مبتلا ہو وہ کسی ماہر طبیب کو تنگ وقت میں ملے کہ اس کے چلے جانے کا خوف ہو لیکن وہ جڑی بوٹیوں اور ادویات کی خصوصیات اور طب کی عجیب وغریب باتیں پوچھنا شروع کردے اور اس اہم بات کے بارے میں نہ پوچھے جس میں وہ مبتلا ہے، وہ نرا بے وقوف ہے۔
مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’مجھے علم کی عجیب وغریب باتیں بتائیں !‘‘ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے پوچھا: ’’تم نے بنیادی علم کے بارے میں کیا سیکھا؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’بنیادی علم کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’کیا تم نے رب عَزَّوَجَلَّ کو پہچانا؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’جی ہاں !‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تم نے اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۰۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۸۲، ج۲۰، ص۱۳۹، مفہومًا۔
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۹۵۔