سرورِکائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ شیطان اکثرتمہیں علم کے ذریعے سست بنا دیتا ہے۔‘‘ کسی نے عرض کی: ’’وہ کیسے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’وہ کہتا ہے علم حاصل کر اور جب تک علم مکمل نہ کرلے عمل مت کرنا پھر وہ علم طلب کرنے کا کہتا رہتا ہے اور عمل میں سستی دلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ علم پر عمل کئے بغیر اس کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔‘‘ (۱)
علم کی حفاظت کا نسخۂ کیمیا:
حضرت سیِّدُنا سری سقطیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ایک شخص جس کو ظاہری علوم حاصل کرنے کا بڑا شوق تھا اچانک اس نے عبادت کے لئے لوگوں سے علیحدگی اختیار کرلی۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھے کہہ رہا ہے : ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں برباد کرے تم کب تک علم کو ضائع کرتے رہوگے!‘‘ تو میں نے کہا: ’’میں تو علم کو محفوظ کررہا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا: ’’علم کی حفاظت اس پر عمل کرنے سے ہوتی ہے۔‘‘ بس پھر میں طلب علم کو چھوڑ کر عمل کی طرف متوجہ ہوگیا۔ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’علم کثرتِ روایت کا نہیں بلکہ خشیت الٰہی کا نام ہے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’جتنا چاہو علم حاصل کرلو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جب تک عمل نہیں کرو گے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اجر نہیں دے گا۔ بیوقوفوں کا مقصد علم کی روایت ہے جبکہ علما کا مقصد علم کی حفاظت۔‘‘ (۴)
حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’علم طلب کرنا اور اسے پھیلانا اچھا عمل ہے جبکہ نیت درست ہو لیکن دیکھا کرو کہ جو چیز صبح سے شام تک تمہارے ساتھ رہتی ہے اس پر کسی دوسری چیز کو ترجیح نہ دو۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، کتاب العلم وتفضیلہ ،ج۱، ص۲۲۸، بتغیرٍ۔
2…فیض القدیرللمناوی، حرف الھمزۃ، تحت الحدیث:۳۰۱۷، ج۳، ص۲۰۹، بتغیرِ الفاظٍ۔
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ،ج ۱، ص۲۳۰، بتغیرِالفاظٍ۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، فی فضل ابی ھریرۃ، الحدیث:۸۶۷، ص۱۸۰۔
4…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع القول فی العمل بالعلم، الحدیث:۷۲۵، ص۲۵۳۔(قول انس بن مالک )
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۳۰۔
5…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۳۳۔