Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
222 - 1087
 انجیل میں  لکھا ہے کہ ’’جب تک اپنے علم پر عمل نہ کر لو اس وقت تک اس علم کو طلب نہ کرو جو تمہیں  حاصل نہیں ۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’تم ایسے زمانے میں  ہو کہ اس میں  جس نے اپنے علم کے دسویں  حصے پر عمل کرنا چھوڑ دیا وہ ہلاک ہوگیا اور عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں  جس نے اپنے علم کے دسویں  حصے پر عمل کرلیا وہ نجات پالے گا اور یہ جھوٹوں  کی کثرت کی وجہ سے ہوگا۔‘‘  (۲)
عالم اور قاضی :
	یادرکھو! عالم کی مثال قاضی جیسی ہے اور مصطفیٰ جان رحمتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’قاضی تین قسم کے ہیں  ایک وہ جو علم رکھتا اور حق فیصلہ کرتا ہے وہ جنتی ہے۔ دوسرا وہ جو ناحق فیصلہ کرتا ہے وہ جہنم میں  جائے گا چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو اور تیسرا وہ جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ بھی جہنم میں  جائے گا۔‘‘  (۳)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن:
	حضرت سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّاربیان کرتے ہیں  کہ آخری زمانے میں  ایسے علما ہوں  گے جو لوگوں  کو دنیا سے بے رغبتی کا کہیں  گے لیکن خود اس میں  رغبت رکھیں  گے۔ لوگوں  کو خوف دلائیں  گے لیکن خود نہیں  ڈریں  گے۔ انہیں  حکمرانوں  کے پاس جانے سے روکیں  گے لیکن خود ان کے پاس جائیں  گے۔ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں  گے لیکن اپنی زبانوں  کی کمائی کھائیں  گے۔ مالداروں  کے قریب رہیں  گے لیکن غریبوں  سے دور۔ علم پر ایسے جھگڑیں  گے جس طرح عورتیں  مردوں  پر جھگڑتی ہیں ۔ ان کا کوئی ہم نشین اگر دوسرے کی مجلس میں  بیٹھے گا تو اس سے ناراض ہوجائیں  گے۔ یہ لوگ متکبرین اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن ہوں  گے۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع القول فی العمل بالعلم، ص۲۵۱۔ 
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ،ج۱، ص۲۳۸، بتغیرٍ۔ 
	سنن الترمذی، کتاب الفتن،بَاب مَا جَاء َ فِی النَّہْیِ عَنْ سَبِّ الرِّیَاحِ، الحدیث:۲۲۷۴، ج۴، ص۱۱۸، مفہومًا۔ 
3…سنن الترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء عن رسول اللّٰہ…الخ، الحدیث:۱۳۲۷، ج۳، ص۶۰، مفہومًا۔ 
4…المجاسۃ وجواھرالعلم، الجزء الثانی والعشرون، الحدیث:۳۰۹۱، ج۳، ص۱۲۷، باختصارٍ۔ 
	قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون،ج۱، ص۲۴۳، دون قولہ:اولئک الجبارون اعداء الرحمن۔