اس کی مثال اس عورت کی طرح ہے جو چھپ کر زنا کرتی ہے اور حاملہ ہوجاتی ہے پھر اس کا حمل ظاہر ہوتا ہے تو وہ ذلیل ورسوا ہوتی ہے یہی حال اس کا ہوگا جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، اللّٰہ جباروقہار عَزَّوَجَلَّ اسے قیامت کے دن سب لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا۔‘‘ (۱)
عالم کی لغزش باعث ہلاکت ہے:
حضرت سیِّدُنا معاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’عالم کی لغزش سے ڈرو کیونکہ لوگوں میں اس کی بڑی قدر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ لغزش میں بھی اس کی پیروی کرتے ہیں ۔‘‘ (۲)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’جب عالم پھسلتا ہے تو اس کے پھسلنے سے ایک جہان پھسل جاتا ہے۔‘‘ (۳)
انہی کافرمان ہے کہ اہل زمانہ تین باتوں کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں ان میں سے ایک عالم کی لغزش ہے۔ (۴)
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دلوں کی شیرینی کھاری ہوجائے گی تو اس وقت نہ عالم کو اس کے علم سے کچھ فائدہ ہوگا اور نہ طالب علم کو کچھ نفع ہوگا۔ ان کے علما کے دل اس بنجر زمین کی طرح ہوجائیں گے جس پر بارش برستی ہے لیکن پھر بھی اس میں مٹھاس نہیں پائی جاتی۔‘‘اور یہ اس وقت ہوگا جب علما کے دل دنیا کی محبت اور اسے آخرت پر ترجیح دینے کی طرف مائل ہوجائیں گے۔ اس وقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کے دلوں سے حکمت کے چشمے نکال لے گا اور ہدایت کے چراغ بجھا دے گا۔ جب تم ان کے کسی عالم سے ملوگے تو وہ زبان سے تمہیں کہے گا کہ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں مگر اس کے اعمال میں بدکاری ظاہر ہوگی۔ اس وقت زبانیں بڑی شیریں ہوں گی مگر دل خشک ہوں گے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ! یہ اس لئے ہوگا کہ اساتذہ نے غیرخدا کے لئے علم سکھایا اور شاگردوں نے غیرخدا کے لئے علم سیکھا ہوگا۔ تورات اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…فیض القدیرللمناوی، حرف الھمزۃ، تحت الحدیث:۲۲۲۶، ج۲، ص۵۴۹۔
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع بیان مایلزم الناظر، الحدیث:۹۶۵، ص۳۵۲، باختصارٍ۔
3…الزھد لابن المبارک، الحدیث:۱۴۷۴، ص۵۲۰، (قول عیسٰی علیہ السلام)۔
4…الزھد لابن المبارک، الحدیث:۱۴۷۵، ص۵۲۰، مفہومًا۔