کا تجھے علم ہے ا س پر تو عمل نہیں کرتا پھر جس کا علم نہیں اسے جاننے کی طلب کیوں کرتا ہے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا ابن سماکعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق نے فرمایا:’’ دوسروں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد دلانے والے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو خود اسے بھول جاتے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرانے والے کتنے ہی ایسے ہیں جو خود اس پر جرأت کرتے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب کرنے والے کتنے ہی ایسے ہیں جو خود اس سے دور ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلانے والے کتنے ہی ایسے ہیں جو خوداس سے بھاگتے ہیں اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اس کی آیات سے الگ رہتے ہیں ۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: ’’ہم نے اپنی گفتگو کو فصیح کیا تو اس میں غلطی نہ کی اور اپنے اعمال میں غلطی کی تو انہیں درست نہ کیا۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا امام اوزاعیرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ جب فصاحت وبلاغت آ جاتی ہے تو خشوع وخضوع رخصت ہوجاتا ہے۔‘‘ (۴)
حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن غنمرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے دس صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے خبر دی کہ ہم مسجد قبا میں علم حاصل کرنے میں مشغول تھے کہ پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’جو سیکھنا چاہتے ہو سیکھ لو لیکن یہ یاد رکھو کہ جب تک عمل نہیں کرو گے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اجر نہیں دے گا۔‘‘ (۵)
علم پر عمل نہ کرنے والے کی مثال:
حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشادفرمایا: ’’جو علم سیکھتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع القول فی العمل بالعلم، ص۲۵۳۔
2…شعب الایمان للبیہقی، باب فی نشر العلم، الحدیث:۱۹۱۶، ج۲، ص۳۱۳۔۳۱۴،مختصراً۔
التفسیر الکبیر للرازی، سورۃ البقرۃ، تحت الآیۃ:۳۱، ج۱، ص۴۰۲۔
3…المجالسۃ وجواھرالعلم، الجزء السادس، الحدیث:۸۵۱، ج۱، ص۳۳۳۔
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۸۲، بتغیرِالفاظٍ۔
5…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع القول فی العمل بالعلم، الحدیث:۷۲۳، ص۳۵۳۔