حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن سب سے زیادہ حسرت اس شخص کو ہوگی جس نے لوگوں کو علم سکھایا اور لوگوں نے اس کے علم پر عمل کیا لیکن اس نے خود اس پر عمل نہ کیا لوگ توعمل کے سبب نجات پاگئے لیکن وہ ہلاک ہوگیا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’جب عالم اپنے علم پر عمل نہ کرے تو اس کی نصیحت لوگوں کے دلوں سے ایسے پھسلتی ہے جیسے صاف پتھر سے پانی کا قطرہ پھسل جاتا ہے۔‘‘ (۲)
شاعر کہتا ہے:
یَا وَاعِظَ النَّاسِ قَدْ اَصْبَحْتَ مُتَّہَمًا اِذْ عِبْتَ مِنْہُمْ اُمُوْرًا اَنْتَ تَاْتِیْھَا
اَصْبَحْتَ تَنْصَحُہُمْ بِالْوَعْظِ مُجْتَہِدًا فَالْمُوْبِقَاتُ لَعَمْرِیْ اَنْتَ جَانِیْھَا
تَعِیْبُ دُنْیَا وَنَاسًا رَاغِبِیْنَ لَھَا وَاَنْتَ اَکْثَرُ مِنْہُمْ رَغْبَۃً فِیْھَا
ترجمہ:(۱)اے لوگوں کو وعظ کرنے والے! تم تہمت زدہ ہو کیونکہ جن باتوں کو ان میں عیب بتاتے ہو انہیں خود کرتے ہو۔
(۲)تم انہیں وعظ ونصیحت کرنے میں بڑی کوشش کرتے ہو اور مجھے میری زندگی کی قسم! ہلاک کرنے والی چیزیں تمہاری طرف آرہی ہیں ۔
(۳)تم دنیا اور اس میں رغبت رکھنے والوں کو عیب لگاتے ہو حالانکہ خو د ان سے زیادہ دنیا میں رغبت رکھتے ہو۔
ایک اور شاعر کہتاہے :
لَا تَنْہِ عَنْ خُلْقٍ وَتَاْتِیْ مِثْلَہٗ عَارٌ عَلَیْکَ اِذْ فَعَلْتَ عَظِیْمٌ
ترجمہ: لوگوں کو ایسی بات سے منع نہ کر جسے تو خود کرتا ہے اگر تو ایسا کرے تو یہ تیرے لئے بڑی شرم کی بات ہے۔
نصیحت آموز عبارت:
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں میرا گزر ایک پتھر کے قریب سے ہوا اس پر لکھا تھا: ’’مجھے پلٹ کر دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔‘‘ میں نے اسے پلٹ کر دیکھا تو اس پر لکھا تھاکہ ’’جس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تحفۃ الحبیب علی شرح الخطیب، مبحث امّابعد، ج۱، ص۷۱۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۸۴، ص۳۲۵۔