{۱}
اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنۡسَوْنَ اَنۡفُسَکُمْ(پ۱،البقرۃ:۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو۔
{۲}
کَبُرَ مَقْتًا عِنۡدَ اللہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۳﴾ (پ۲۸،الصف:۳)
ترجمۂ کنزالایمان: کتنی سخت ناپسند ہے اللّٰہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔
{۳}حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَـیْہِ السَّلَام کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
وَمَاۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ اِلٰی مَاۤ اَنْہٰکُمْ عَنْہُ (پ۱۲،ہود:۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کا خلاف کرنے لگوں ۔
{۴}
وَاتَّقُوا اللہَ ؕ وَیُعَلِّمُکُمُ اللہُ (پ۳،البقرۃ:۲۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہ سے ڈرو اور اللّٰہ تمہیں سکھاتا ہے۔
{۵}
وَاتَّقُوا اللہَ وَ اعْلَمُوۡۤا (پ۲،البقرۃ:۱۹۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو۔
{۶}
وَ اتَّقُوا اللہَ وَاسْمَعُوۡا ؕ (پ۷،المائدۃ:۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہ سے ڈرو اور حکم سنو۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوارشاد فرمایا: ’’اے ابن مریم! پہلے اپنے نفس کو نصیحت کرو اگر وہ مان جائے تو پھر دوسروں کو نصیحت کرو ورنہ مجھ سے حیا کرو۔‘‘ (۱)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّ ہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا ’’تم کون ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ہم نیکی کا حکم دیتے تھے لیکن خود اس پرعمل نہیں کرتے تھے۔ برائی سے روکتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، من مواعظ عیسٰی علیہ السلام، الحدیث:۳۰۰، ص۹۳۔