Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
216 - 1087
’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے عافیت دے! یہ اٹھا لو اور انہیں اپنے پاس رکھو ہمیں  ان کی حاجت نہیں  اور جو میری اس مجلس جیسی مجلس قائم کرے گا پھر لوگوں  سے اس طرح کا نذرانہ لے گا وہ قیامت کے دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں  ملے گا کہ اس کا (آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں  ہوگا۔‘‘  (۱)
کس عالم کی صحبت اختیار کی جائے؟
	حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ سرکارِمدینہ، راحت ِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر عالم کے پاس نہ بیٹھو صرف اسی عالم کے پاس بیٹھو جو تمہیں پانچ خصلتوں  سے پانچ کی طرف بلائے:(۱)شک سے یقین کی طرف (۲)ریاکاری سے اخلاص کی طرف (۳)دنیا کی رغبت سے بے رغبتی کی طرف (۴)تکبر سے عاجزی کی طرف اور (۵)عداوت سے خیر خواہی کی طرف۔‘‘  (۲)
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیۡ زِیۡنَتِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنیَا یٰلَیۡتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوۡتِیَ قَارُوۡنُ ۙ اِنَّہٗ لَذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۷۹﴾ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ وَیۡلَکُمْ ثَوَابُ اللہِ خَیۡرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۚ (پ۲۰،القصص:۷۹،۸۰)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں  بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں  کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بے شک اس کا بڑا نصیب ہے اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللّٰہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے۔
	پس اہل علم نے جان لیا کہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہئے۔
{2}…علمائے آخرت کی نشانیوں  میں  سے ایک نشانی یہ ہے کہ عالم کا فعل اس کے قول کی مخالفت نہ کرے بلکہ وہ اس وقت تک کسی چیز کا حکم نہ دے جب تک پہلے خود اس پر عمل نہ کرلے۔
	چند فرامین باری تعالیٰ ملاحظہ ہوں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۹، بتغیرٍ۔ 
2…حلیۃ الاولیاء، شقیق البلخی:۳۹۵، الحدیث:۱۱۴۱۷، ج۸، ص۷۵۔